(۳۹۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ کَعْبٍ قَائِدَ کَعْبٍ حِینَ عَمِیَ مِنْ بَیْتِہِ قَالَ: سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُ حَدِیثَہُ حِینَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ إِلَی أَنْ قَالَ: حَتَّی کَمَلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَیْلَۃً مِنْ حِینَ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ کَلاَمِنَا ، فَلَمَّا صَلَّیْتُ صَلاَۃَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِینَ لَیْلَۃً ، وَأَنَا عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِنَا ، فَبَیْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِی ذَکَرَ اللَّہُ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَیَّ نَفْسِی ، وَضَاقَتْ عَلَیَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَی عَلَی جَبَلِ سَلْعٍ: یَا کَعْبُ بْنَ مَالِکٍ أَبْشِرْ۔ قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّہُ قَدْ جَائَ الْفَرَجُ وَآذَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِتَوْبَۃِ اللَّہِ عَلَیْنَا حِینَ صَلَّی صَلاَۃَ الْفَجْرِ ، فَذَہَبَ النَّاسُ یُبَشِّرُونَنَا وَذَہَبَ قِبَلَ صَاحِبَیَّ مُبَشِّرُونَ ، وَرَکَضَ رَجُلٌ إِلَیَّ فَرَحًا ، وَسَعَی سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَی عَلَی الْجَبَلِ ، فَکَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ إِلَیَّ مِنَ الْفَرَسِ ، فَلَمَّا جَائَ نِی الَّذِی سَمِعْتُ صَوْتَہُ یُبَشِّرُنِی نَزَعْتُ ثَوْبَیَّ فَکَسَوْتُہُمَا إِیَّاہُ بِبُشْرَاہُ ، وَاللَّہِ مَا أَمْلِکُ غَیْرَہُمَا یَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ ، فَلَبِسْتُہُمَا وَانْطَلَقْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۴۱۸]
(٣٩٣٣) عبد الرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک ] سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن کعب (رض) فرماتے ہیں : میں نے کعب بن مالک (رض) سے ان کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والا واقعہ سنا، وہ طویل حدیث بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارا بائیکاٹ کروایا تھا، اس وقت سے اب تک پچاس دن پورے ہوگئے۔ پچاسویں رات کی صبح جب میں نے فجر کی نماز پڑھی اور میں اپنے کسی گھر کی چھت پر تھا اور ایسی حالت میں بیٹھا تھا جس کا اللہ نے ہمارے بارے میں ذکر کیا کہ اپنی جان بھی تنگ پڑگئی اور زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ہوگئی تھی کہ میں نے ایک پکار نے والے کو سنا جس کی آواز سلع پہاڑ تک سنائی دے رہی تھی کہ اے کعب بن مالک ! تجھے خوشخبری ہو۔ میں وہیں سجدہ ریز ہوگیا اور میں سمجھ گیا کہ میرے لیے خلاصی آچکی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے بعد ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان کیا ہوگا۔ لوگ ہمیں خوشخبریاں دینے لگے اور میرے دوساتھیوں کی طرف بھی گئے، میرے پاس ایک شخص خوشخبری لے کر پہنچا۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص کوشش کر کے پہاڑ پر پہنچا اور گھوڑے کی آواز سے بھی تیز آواز آرہی تھی۔ جب وہ شخص جس کی بشارت کی آواز میں سن چکا تھا میرے پاس آیا تو میں نے اپنے کپڑے جو پہنے ہوئے تھے دونوں اتار کر اس خوشخبری سنانے والے کو پہنا دیے۔ اللہ کی قسم ! اس دن میں ان دو کپڑوں کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہ تھا، پھر میں نے عارضی طور پر کسی سے دو کپڑے لیے، انھیں پہن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور مکمل حدیث ذکر کی۔