(۳۹۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ یَعْقُوبَ عَنِ ابْنِ عُثْمَانَ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَہُوَ یَحْیَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ - عَنْ أَشْعَثَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ مَکَّۃَ نُرِیدُ الْمَدِینَۃَ ، فَلَمَّا کَانَ قَرِیبًا مِنْ عَزْوَرَ نَزَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَدَعَا اللَّہَ سَاعَۃً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَکَثَ طَوِیلاً ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ سَاعَۃً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا ، ذَکَرَہُ أَحْمَدُ ثَلاَثًا۔ قَالَ : إِنِّی سَأَلْتُ رَبِّی وَشَفَعْتُ لأُمَّتِی ، فَأَعْطَانِی ثُلُثَ أُمَّتِی ، فَخَرَرْتُ لِرَبِّی سَاجِدًا شُکْرًا ، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِی ، فَسَأَلْتُ رَبِّی لأُمَّتِی فَأَعْطَانِی ثُلُثَ أُمَّتِی ، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّی شُکْرًا ، ثُمَّ قُمْتُ فَسَأَلْتُ رَبِّی لأُمَّتِی فَأَعْطَانِی الثُّلُثَ الآخِرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّی عَزَّوَجَلَّ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَحِمَہُ اللَّہُ: أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ أَسْقَطَہُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حِینَ حَدَّثَنَا بِہِ فَحَدَّثَنِی بِہِ عَنْہُ مُوسَی بْنُ سَہْلٍ الرَّمْلِیُّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۷۷۵]
(٣٩٣٥) عامر بن سعد (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ سے مدینہ کو جا رہے تھے۔ جب آپ عزور مقام پر پہنچے تو سواری سے نیچے اترے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر بارگاہِ الٰہی میں کچھ دیر دعا ومناجات کی۔ پھر سجدے میں گرپڑے اور کافی دیر تک سجدے میں رہے ، پھر کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ کچھ دیر کے لیے اٹھائے۔ اس کے بعد پھر سجدہ ریز ہوگئے۔ احمد نے اس کو تین بار ذکر کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے سوال کیا ہے اور اپنی امت کے لیے سفارش کی ہے تو اللہ نے ایک تہائی امت کے حق میں سفارش قبول کی، میں پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوگیا، جب میں نے سر اٹھایا اور اللہ سے اپنی امت کے لیے شفاعت کی درخواست کی تو اللہ نے پھر ایک تہائی امت دے دی۔ میں پھر اپنے رب کے حضور سجدے میں گرگیا۔ پھر میں کھڑا ہوا اور اپنے رب سے اپنی امت کی خاطر سوال کیا تو اللہ نے مجھے ایک تہائی اور عطا فرما دیا میں اپنے رب کے حضور شکر کرتے ہوئے سجدے میں گرگیا۔