(۳۹۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَبِی وَشُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ عَمْرٍو یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَاتَّبَعْتُہُ أَمْشِی وَرَاَئَ ہُ ، وَلاَ یَشْعُرُ بِی حَتَّی دَخَلَ نَخْلاً ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَأَنَا وَرَائَ ہُ ، حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی تَوَفَّاہُ ، فَأَقْبَلْتُ أَمْشِی حَتَّی جِئْتُہُ ، فَطَأْطَأْتُ رَأْسِی أَنْظُرُ فِی وَجْہِہِ ، فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ : مَا لَکَ یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ ۔ فَقُلْتُ: لَمَّا أَطَلْتَ السُّجُودَ یَا رَسُولَ اللَّہِ خَشِیتُ أَنْ یَکُونَ اللَّہُ قَدْ تَوَفَّی نَفْسَکَ ، فَجِئْتُ أَنْظُرُ۔ فَقَالَ : إِنِّی لَمَّا رَأَیْتَنِی دَخَلْتُ النَّخْلَ لَقِیتُ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ: أُبَشِّرُکَ أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ مَنْ سَلَّمَ عَلَیْکَ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، وَمَنْ صَلَّی عَلَیْکَ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ ۔ [ضعیف]
(٣٩٣٦) عبد الرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے باہر نکل رہے ہیں تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے چلنے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا پتہ نہ چلا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجوروں کے باغ میں داخل ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ رخ ہو کر سجدہ کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑا تھا۔ حتیٰ کہ میں نے سمجھا شاید اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کرلی ہو۔ میں چلتا ہوا آپ کے پاس آگیا ۔ میں نے اپنے سر کو جھکایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا : اے عبد الرحمن ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے جب سجدے کو لمبا کیا تو مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فوت نہ کردیا ہو تو میں دیکھنے آیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نے مجھے باغ میں داخل ہوتے دیکھا اس وقت میں جبرائیل (علیہ السلام) سے ملا، انھوں نے کہا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشخبری سناتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام بھیجتا ہے میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھتا ہے میں اس پر رحمت بھیجتا ہوں۔