(۳۹۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبَدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ فَلَمْ یَقْرَأْ فِیہَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِیلَ لَہُ: مَا قَرَأْتَ۔ قَالَ: فَکَیْفَ کَانَ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ؟ قَالُوا: حَسَنًا۔ قَالَ: فَلاَ بَأْسَ إِذًا۔
وَإِلَی ہَذَا کَانَ یَذْہَبُ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ وَیَرْوِیہِ أَیْضًا عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ بِمَعْنَی رِوَایَۃِ أَبِی سَلَمَۃَ وَیُضَعِّفُ مَا رُوِیَ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ عَنِ الشَّعْبِیِّ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ: أَنَّ عُمَرَ أَعَادَ الصَّلاَۃَ۔ بِأَنَّہُمَا مُرْسَلَتَانِ۔ قَالَ: وَأَبُو سَلَمَۃَ یُحَدِّثُہُ بِالْمَدِینَۃِ وَعِنْدَ آلِ عُمَرَ لاَ یُنْکِرُہُ أَحَدٌ۔
[ضعیف۔ أخرجہ مالک وعنہ الشافعی فی الام ۷/۲۵۱]
(٣٩٨٠) (ا) ابو سلمہ بن عبد الرحمن (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، انھوں نے اس میں قرات نہیں کی، جب وہ نماز سے پھرے تو کسی نے ان سے کہا : آپ نے تو قرات نہیں کی۔ عمر (رض) نے پوچھا : رکوع اور سجود کیسے تھے ؟ انھوں نے کہا : بہت اچھے تو عمر (رض) نے فرمایا : پھر کوئی حرج نہیں۔
(ب) شعبی (رح) اور نخعی (رح) سے منقول ہے کہ حضرت عمر (رض) نے نماز لوٹائی تھی۔