(۳۹۸۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا بِحَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ شَیْبَانَ الْبَغْدَادِیُّ الْہَرَوِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَلَّی بِالنَّاسِ صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ فَلَمْ یَقْرَأْ شَیْئًا حَتَّی سَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قِیلَ لَہُ: إِنَّکَ لَمْ تَقْرَأْ شَیْئًا ۔ فَقَالَ: إِنِّی جَہَّزْتُ عِیرًا إِلَی الشَّامِ ، فَجَعَلْتُ أُنْزِلُہَا مَنْقَلَۃً مَنْقَلَۃً حَتَّی قَدِمَتِ الشَّامَ فَبِعْتُہَا وَأْقَتَابَہَا وَأَحْلاَسَہَا وَأَحْمَالَہَا۔ قَالَ: فَأَعَادَ عُمَرُ وَأَعَادُوا۔ [ضعیف]
(٣٩٨١) ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی تو اس میں قرات نہیں کی حتیٰ کہ نماز سے سلام پھیر دیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کسی نے ان سے کہا : آپ نے تو کچھ بھی قرات نہیں کی۔ حضرت عمر (رض) بولے : میں نے شام کی طرف لشکر تیار کر کے بھیجا ہے۔ میں اس کو اتارنے لگا۔ انھوں نے مختصرا راستوں پر پڑاؤ ڈالا میں اس کو لے کر چلتا رہا۔ حتیٰ کہ وہ شام آگیا۔ میں نے ان کو ‘ ان کے پالانوں کو اور ان کی زینوں کو بیچا۔ راوی بیان کرتے ہیں تو عمر (رض) نے نماز بھی لوٹائی اور ہم نے بھی نماز کا اعادہ کیا۔