(۳۹۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ أَنَّہُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: مَرَرْتُ بِہِشَامِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَاسْتَمَعْتُ قِرَائَ تَہِ ، فَإِذَا ہُوَ یَقْرَأُ عَلَی حُرُوفٍ کَثِیرَۃٍ لَمْ یُقْرِئْنِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَکِدْتُ أَنْ أُسَاوِرُہُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَانْتَظَرْتُ حَتَّی سَلَّمَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُہُ بِرِدَائِہِ فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَکَ ہَذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی أَسْمَعُکَ تَقْرَؤُہَا؟ قَالَ: أَقْرَأَنِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ قُلْتُ لَہُ: کَذَبْتَ وَاللَّہِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَہُوَ أَقْرَأَنِی ہَذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی تَقْرَؤُہَا، فَانْطَلَقْتُ أَقُودُہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی سَمِعْتُ ہَذَا یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ عَلَی حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِیہَا ، وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِی سُورَۃَ الْفُرْقَانِ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَرْسِلْہُ یَا عُمَرُ ، اقْرَأْ یَا ہِشَامُ))۔ فَقَرَأَ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃَ الَّتِی سَمِعْتُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((ہَکَذَا أُنْزِلَتْ))۔ ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((اقْرَأْ یَا عُمَرُ))۔ فَقَرَأْتُ الْقِرَائَ ۃَ الَّتِی أَقْرَأَنِی النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((ہَکَذَا أُنْزِلَتْ))۔ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ ، فَاقْرَئُ وا مِنْہُ مَا تَیَسَّرَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلٍ وَیُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۹۲]
(٣٩٨٦) عمر بن خطاب (رض) بیان فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں ایک بار میں حکیم بن حزام (رض) کے پاس سے گزرا۔ وہ سورة فرقان کی تلاوت کر رہے تھے، میں نے ان کی قرات پر کان لگائے تو وہ بہت زیادہ ایسے حروف پڑھ رہے تھے، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نہیں پڑھائے تھے قریب تھا کہ میں جلدی سے انھیں روک دیتا۔ لیکن میں نے ان کے سلام پھیرنے کا انتظار کیا۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں انہی کی چادر ڈال کر کہا۔ تمہیں یہ سورت کس نے پڑھائی ہے جو میں نے تجھے ابھی پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : یہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا : تو جھوٹ بولتا ہے، اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی سورت مجھے بھی پڑھائی تھی جو تو پڑھ رہا تھا۔ میں ان کے گلے میں چادر ڈالے انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے آیا اور میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! سورة فرقان ایسے نہیں پڑھ رہا جیسے آپ نے مجھے پڑھائی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! اس کو چھوڑ دو پھر فرمایا : ہشام پڑھیے، انھوں نے ویسے ہی پڑھی جیسے میں نے ان سے سنی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر مجھے فرمایا : پڑھیے۔ میں نے اس طرح پڑھی جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پڑھائی تھی۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ قرآن سات لہجوں میں نازل ہوا ہے، اس میں سے جس طرح آسان ہو پڑھو۔