(۳۹۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ وَعَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابْجِرْدِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عِیسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا فِی الْمَسْجِدِ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَائَ ۃً أَنْکَرْتُہَا عَلَیْہِ ، ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَائَ ۃً سِوَی قِرَائَ ۃِ صَاحِبِہِ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا دَخَلْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ ہَذَا الرَّجُلَ قَرَأَ قِرَائَ ۃً أَنْکَرْتُہَا عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَرَأَ ہَذَا سِوَی قِرَائَ ۃِ صَاحِبِہِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلرَّجُلِ : اقْرَأْ ۔ فَقَرَأَ ، ثُمَّ قَالَ لِلآخَرِ : ((اقْرَأْ))۔ فَقَرَأَ فَقَالَ : ((أَحْسَنْتُمَا)) أَوْ ((أَصَبْتُمَا))۔ فَلَمَّا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حَسَّنَ شَأْنَہُمَا سُقِطَ فِی نَفْسِی ، وَوَدِدْتُ أَنِّی کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ - قَالَ - فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا غَشِیَنِی ضَرَبَ بِیَدِہِ فِی صَدْرِی ، فَفِضْتُ عَرَقًا وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی اللَّہِ فَرَقًا ، ثُمَّ قَالَ : ((یَا أُبَیُّ بْنَ کَعْبٍ إِنَّ رَبِّی أَرْسَلَ إِلَیَّ أَنِ اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفٍ)) قَالَ: ((فَرَدَدْتُ عَلَیْہِ یَا رَبِّ ہَوِّنْ عَلَی أُمَّتِی۔ فَرَدَّ عَلَیَّ الثَّانِیَۃَ أَنِ اقْرَأْ عَلَی حَرْفٍ))۔ قَالَ ((قُلْتُ: یَا رَبِّ ہَوِّنْ عَلَی أُمَّتِی۔ فَرَدَّ عَلَیَّ الثَّالِثَۃَ أَنِ اقْرَأْ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ ، وَلَکَ بِکُلِّ رَدَّۃٍ رَدَدْتَہَا مَسْأَلَۃٌ تَسْأَلُنِیہَا۔ فَقُلْتُ: اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِی ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِی ، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَۃَ إِلَی یَوْمَ یَرْغَبُ إِلَیَّ فِیہِ الْخَلْقُ حَتَّی إِبْرَاہِیمَ -ﷺ- ۔))
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فَسُقِطَ فِی نَفْسِی مِنَ التَّکْذِیبِ وَلاَ إِذْ کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔ وَقَالَ غَیْرُہُ: سُقِطَ فِی نَفْسِی وَکَبُرَ عَلَیَّ وَلاَ إِذْ کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مَا کَبُرَ عَلَیَّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۹۲۰]
(٣٩٨٧) (ا) ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں ! میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص داخل ہوا ، اس نے قرات کی تو میں نے اس کی قرات کو اجنبی محسوس کیا، پھر ایک اور شخص آیا، اس نے اس کی قرات سے بھی مختلف قرات کی۔ جب ہم وہاں سے ہٹے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اس آدمی نے ایسی قرات کی ہے جس کا میں انکار کرتا ہوں اور اس دوسرے نے اپنے ساتھی کی قرات سے بھی ہٹ کر قرات کی۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے کہا : پڑھ، اس نے قرات کی، پھر دوسرے کو فرمایا : پڑھ، اس نے بھی پڑھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں نے صحیح پڑھا۔ جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو اچھا کہا ہے تو میرے دل میں کئی وسوسے پیدا ہوئے۔ میں یہ تمنا کرنے لگا کہ کاش میں اس وقت جاہلیت میں ہوتا (اور اس کے بعد اسلام لاتا) ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری یہ حالت دیکھی تو اپنا ہاتھ مبارک میرے سینے پر مارا، میرے پسینے جھوٹ گئے اور یہ کیفیت ہوگئی گویا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی بن کعب ! میرے رب نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ وحی بھیجی) کہ قرآن کو ایک ہی لہجہ پر پڑھوں، لیکن میں نے فرشتے کو واپس لوٹا دیا اور کہا : اے میرے رب ! میری امت پر آسانی فرما تو اس نے دوسری بار بھی یہی بات دھرائی کہ ایک لہجہ میں پڑھو۔ میں نے کہا : اے میرے رب ! میری امت پر آسانی فرما۔ تو تیسری بار مجھے جواب ملا کہ قرآن کو سات لہجوں میں پڑھو اور آپ کے لیے ہر بار واپس بھیجنے کے بدلے ایک دعا ہے، جو آپ نے مجھ سے کرنی ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ ! میری امت کی بخش دے ‘ اے اللہ ! میری امت کو بخش دے اور تیسری دعا کو میں نے قیامت کے دن تک مؤخر کرلیا ہے، جس دن سارے لوگ میری طرف آئیں گے حتیٰ کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی۔
(ب) صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ میرے دل میں تکذیب کا خیال آیا نہ یہ کہ میں اس وقت جاہلیت میں ہوتا۔ ایک اور روایت میں ہے : سُقِطَ فِی نَفْسِی وَکَبُرَ عَلَیَّ وَلاَ إِذْ کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مَا کَبُرَ عَلَیَّ ۔