(۳۹۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((أَقْرَأَنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عَلَی حَرْفٍ، فَرَاجَعْتُہُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِیدُہُ وَیَزِیدُنِی حَتَّی انْتَہَی إِلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ))۔ قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَإِنَّمَا ہَذِہِ الأَحْرُفُ فِی الأَمْرِ الْوَاحِدِ لَیْسَ یَخْتَلِفُ فِی حَلاَلٍ وَلاَ حَرَامٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ یُونُسَ وَعُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۹۱]
(٣٩٩٠) (ا) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک لہجہ میں قرآن پڑھایا تو میں بار بار انھیں لوٹاتا رہا اور انھیں اور زیادہ کروانے کا کہتا رہا حتیٰ کہ وہ سات تک پہنچ گئے۔
(ب) زہری (رح) بیان کرتے ہیں : یہ سات لہجے ہیں، ان کا حکم ایک ہی ہے اور حلال و حرام کا کوئی اختلاف نہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک لہجہ حلال ہو اور دوسرا حرام۔