hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3989

.

سنن البيهقي

3989
Sunan Al Bayhaqi
(۳۹۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ یَعْمُرَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَرَأْتُ آیَۃً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ قِرَائَ ۃً خِلاَفَہَا ، فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ: أَلَمْ تُقْرِئْنِی آیَۃَ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ : ((بَلَی)) ۔ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَمْ تُقْرِئْنِیہَا کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ : ((بَلَی)) - قَالَ - ((کِلاَکُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ))۔ قُلْتُ: مَا کِلاَنَا أَحْسَنَ وَلاَ أَجْمَلَ۔ قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرِی وَقَالَ : ((یَا أُبَیُّ أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ فَقِیلَ لِی أَعَلَی حَرْفٍ أَمْ عَلَی حَرْفَیْنِ؟ فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِی مَعِیَ: عَلَی حَرْفَیْنِ۔ فَقُلْتُ: عَلَی حَرْفَیْنِ۔ فَقِیلَ لِی: عَلِی حَرْفَیْنِ أَمْ ثَلاَثَۃٍ؟ فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِی مَعِیَ: عَلَی ثَلاَثَۃٍ۔ فَقُلْتُ: ثَلاَثَۃٍ حَتَّی بَلَغَ سَبْعَۃَ أَحْرُفٍ۔ قَالَ: لَیْسَ فِیہَا إِلاَّ شَافٍ کَافٍ۔ قُلْتُ غَفُورٌ رَحِیمٌ عَلِیمٌ حَلِیمٌ سَمِیعٌ عَلِیمٌ عَزِیزٌ حَکِیمٌ نَحْوَ ہَذَا ، مَا لَمْ تَخْتِمْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ أَوْ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ))۔ وَرَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ فَأَرْسَلَہُ۔ [صحیح۔ وشھدلہ ما قبلہ…]
(٣٩٨٩) ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں : میں نے ایک آیت پڑھی اور ابن مسعود (رض) نے اس کے مخالف قرات میں پڑھی۔ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا : کیا آپ نے مجھے فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ! ابن مسعود (رض) کہنے لگے : آپ نے فلاں آیت مجھے اس طرح نہیں پڑھائی تھی ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک اچھا اور بہترین پڑھ رہا ہے۔ میں نے کہا : ہم دونوں کیسے ؟
راوی فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا : اے ابی ! مجھے قرآن پڑھایا گیا۔ پھر مجھ سے پوچھا گیا : ایک لہجہ پر یا دو لہجوں پر ؟ میرے پاس جو فرشتہ تھا اس نے کہا : دو حرفوں پر، میں نے کہا : دو حرفوں پر، پھر پوچھا گیا دو حرفوں پر یا تین حرفوں پر ؟ میرے ساتھ والے فرشتے نے مجھے کہا : تین کا کہیں ! میں نے کہا : تین حرفوں پر حتیٰ کہ وہ سات لہجوں تک پہنچا، پھر اس نے کہا : اس میں ہر ایک لہجہ حرف شافی اور کافی ہے۔ میں نے کہا : غفور رحیم ‘ علیم حلیم ‘ سمیع علیم ‘ عزیز حکیم اور اس کی طرح دیگر (کہہ دیا تو کچھ فرق نہیں پڑھتا) البتہ آیت عذاب کو آیت رحمت سے یا آیت رحمت کو آیت عذاب سے بدلنا درست نہیں۔