(۳۹۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَوْلُہُ: سَبْعَۃُ أَحْرُفٍ یَعْنِی سَبْعَ لُغَاتٍ مِنْ لُغَاتِ الْعَرَبِ ، وَلَیْسَ مَعْنَاہُ أَنْ یَکُونَ فِی الْحَرْفِ الْوَاحِدِ سَبْعَۃُ أَوْجُہٍ ، ہَذَا مَا لَمْ یُسْمَعْ بِہِ قَطُّ ، وَلَکِنْ یَقُولُ ہَذِہِ اللُّغَاتُ السَّبْعُ مُتَفَرِّقَۃٌ فِی الْقُرْآنِ ، فَبَعْضُہُ نَزَلَ بِلُغَۃِ قُرَیْشٍ ، وَبَعْضُہُ بِلُغَۃِ ہَوَازِنَ ، وَبَعْضُہُ بِلُغَۃِ ہُذَیْلٍ ، وَبَعْضُہُ بِلُغَۃِ أَہْلِ الْیَمَنِ ، وَکَذَلِکَ سَائِرُ اللُّغَاتِ وَمَعَانِیہَا فِی ہَذَا کُلِّہِ وَاحِدٌ وَمِمَّا یُبَیِّنُ لَکَ ذَلِکَ قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَکَرَہُ۔
قَالَ وَکَذَلِکَ قَالَ ابْنُ سِیرِینَ إِنَّمَا ہُوَ کَقَوْلِکَ: ہَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبِلْ۔ ثُمَّ فَسَّرَہُ ابْنُ سِیرِینَ فَقَالَ: فِی قِرَائَۃِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنْ کَانَتْ إِلاَّ زَقْیَۃً وَاحِدَۃً ، وَفِی قِرَائَ تِنَا {صَیْحَۃٌ وَاحِدَۃٌ} [یس: ۲۹] وَالْمَعْنَی فِیہِمَا وَاحِدٌ ، وَعَلَی ہَذَا سَائِرُ اللُّغَاتِ۔ [حسن]
(٣٩٩٢) (ا) ابو عبید (رض) فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان سات حروف سے عرب کی سات لغتیں مراد ہیں ، اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ ایک ہی حرف میں سات اعراب جائز ہیں۔ اس قسم کا قول تو کسی سے کبھی بھی نہیں سنا گیا۔ لیکن وہ فرماتے ہیں کہ یہ سات لغتیں قرآن میں متفرق ہیں۔ قرآن کا بعض حصہ قریش کی لغت میں نازل ہوا، بعض ہوازن کی لغت پر، کچھ ہذیل کی لغت پر اور کچھ اہل یمن کی لغت پر نازل ہوا۔ اسی طرح دیگر لغات ہیں۔ ان کے معانی ایک ہی ہیں۔ اس کی وضاحت ابن مسعود (رض) کے مذکورہ بالا قول سے ہوئی ہے۔
(ب) اسی طرح ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تو تمہارے اس قول کی طرح ہے : ہَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبِلْ ۔ پھر ابن سیرین نے اس کی تفسیر بیان کی کہ ابن مسعود (رض) کی قرات میں ہے : ”إِنْ کَانَتْ إِلاَّ زَقْیَۃً وَاحِدَۃً ۔ “ اور ہماری قرات میں ہے : { صَیْحَۃٌ وَاحِدَۃٌ} [یس : ٢٩] ہے اور ان دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، اسی طرح دیگر لغات ہیں۔