(۳۹۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: الْقِرَائَ ۃُ سُنَّۃٌ۔
وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّ اتِّبَاعَ مَنْ قَبْلَنَا فِی الْحُرُوفِ ، وَفِی الْقِرَائَ اتِ سُنَّۃٌ مُتَّبَعَۃٌ لاَ یَجُوزُ مُخَالَفَۃُ الْمُصْحَفِ الَّذِی ہُوَ إِمَامٌ وَلاَ مُخَالَفَۃُ الْقِرَائَ اتِ الَّتِی ہِیَ مَشْہُورَۃٌ ، وَإِنْ کَانَ غَیْرُ ذَلِکَ سَائِغًا فِی اللُّغَۃِ أَوْ أَظْہَرَ مِنْہَا ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ
وَأَمَّا الأَخْبَارُ الَّتِی وَرَدَتْ فِی إِجَازَۃِ قِرَائَ ۃِ غَفُورٌ رَحِیمٌ بَدَلَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ فَلأَنَّ جَمِیعَ ذَلِکَ مِمَّا نَزَلَ بِہِ الْوَحْیُ ، فَإِذَا قَرَأَ ذَلِکَ فِی غَیْرِ مَوْضِعِہِ مَا لَمْ یَخْتِمْ بِہِ آیَۃَ عَذَابٍ بِآیَۃِ رَحْمَۃٍ أَوْ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ ، فَکَأَنَّہُ قَرَأَ آیَۃً مِنْ سُورَۃٍ وَآیَۃً مِنْ سُورَۃٍ أُخْرَی فَلاَ یَأْثَمْ بِقِرَائَ تِہَا کَذَلِکَ ، وَالأَصْلُ مَا اسْتَقَرَّتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ فِی السَّنَۃِ الَّتِی تُوُفِّیَ فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَعْدَ مَا عَارَضَہُ بِہِ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فِی تِلْکَ السَّنَۃِ مَرَّتَیْنِ ، ثُمَّ اجْتَمَعَتِ الصَّحَابَۃُ عَلَی إِثْبَاتِہِ بَیْنَ الدَّفَّتَیْنِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ سعید بن منصور ۲/۲۶۰]
(٣٩٩٥) (ا) زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ قرات سنت ہے۔
(ب) ان کی مراد اپنے سے پہلے والوں کی ہجوں میں اتباع کرنا ہے۔ قرأتوں میں جو لائق اتباع ہیں ان میں اس مصحف کی مخالفت جائز نہیں جو امام ہے اور نہ ہی مشہور قراءت وں کی مخالفت جائز ہے۔ اگرچہ وہ اس کے علاوہ لغت میں جائز ہو یا زیادہ واضح ہی کیوں نہ ہو۔
(ج) رہی وہ احادیث جو علیم ” حکیم “ کی جگہ غفو ر، رحیم کی قرات کی اجازت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں وہ اس لیے کہ یہ بھی ان میں سے ہیں جن کے بارے میں وحی نازل ہوئی۔ لہٰذا اس کو اس کی جگہ کے علاوہ پڑھنا جائز ہے آیت عذاب کو آیت رحمت سے یا آیت رحمت کو آیت عذاب سے نہ بدلے۔ یہ ایسا ہے گویا اس نے ایک آیت ایک سورت سے پڑھی اور دوسری آیت دوسری سورت سے تو اس طرح پڑھنے سے وہ گناہ گار نہ ہوگا اور اصل جس پر قرات قائم ہے جب تک وہ وہی جس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ دور کرنے کے بعد فوت ہوئے۔ اس سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا تھا۔ پھر صحابہ ] نے (قرآن کے) دو گتوں کے درمیان کے ثابت ہونے پر اجماع کرلیا۔