(۴۰۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی خُثَیْمُ بْنُ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَاسْتَخْلَفَ سِبَاعَ بْنَ عَرْفَطَۃَ عَلَی الْمَدِینَۃِ۔
قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: وَقَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ مُہَاجِرًا فَصَلَّیْتُ الصُّبْحَ وَرَائَ سِبَاعٍ فَقَرَأَ فِی السَّجْدَۃِ الأُولَی سُورَۃِ مَرْیَمَ ، وَفِی الأُخْرَی {وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ} قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ قُلْتُ: وَیْلٌ لأَبِی فُلْ أَوْ قَالَ لأَبِی فُلاَنٍ ، لِرَجُلٍ کَانَ بِأَرْضِ الأَزْدِ کَانَ لَہُ مِکْیَالاَنِ مِکْیَالٌ یَکْتَالُ بِہِ لِنَفْسِہِ وَمِکْیَالٌ یَبْخَسُ بِہِ النَّاسَ۔
[صحیح۔ أخرجہ یعقوب بن سفیان فی المعرفۃ والتاریخ ۱۲۷۰]
(٤٠٢٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں ہجرت کر کے مدینہ آیا تو میں نے صبح کی نماز سباع کے پیچھے پڑھی تو انھوں نے پہلی رکعت میں سورة مریم پڑھی اور دوسری رکعت میں { وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ } [المطففین : ١] پڑھی۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے کہا : ابو فل یا فرمایا ابو فلاں کے لیے ہلاکت ہو یہ شخص ” ازد “ کے علاقے میں رہتا تھا۔ اس نے دو پیمانے رکھے تھے ایک سے تول کر خود لیتا تھا (یہ بڑا تھا) اور دوسرے سے تول کر لوگوں کو دیتا تھا (یہ چھوٹا تھا) اور لوگوں کو مال کم دیتا تھا۔