(۴۰۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِطُوسٍ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ بِنَیْسَابُورَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِی أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : ہُشِّمَتِ الْبَیْضَۃُ عَلَی رَأْسِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ ، وَجُرِحَ وَجْہُہُ۔
قَالَ أَبُو حَازِمٍ : وَکَانَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَغْسِلَ عَنْہُ الدَّمَ ، وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْتِیہَا بِالْمَائِ فِی مَجَنَّۃٍ ، فَلَمَّا أَصَابَ الْجُرْحَ الْمَائُ کَثُرَ دَمُہُ فَلَمْ یَرْقَإِ الدَّمُ حَتَّی أَخَذَتْ قِطْعَۃَ حَصِیرٍ وَأَحْرَقَتْہُ حَتَّی عَادَ رَمَادًا ، ثُمَّ جَعَلَتْہُ عَلَی الْجُرْحِ فَرَقَأَ الدَّمُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَہْلِ بْنِ عَسْکَرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۷۵۴، مسلم ۱۷۹۰]
(٤٠٨٥) سہل بن سعد سے روایت ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر کی خود توڑ دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رباعی دانت شہید ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ زخمی ہوگیا۔
(ب) ابو حازم فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رض) آپ کا خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) ڈھال میں پانی لا رہے تھے۔ جب زخم کو پانی لگا تو خون رکا نہیں بلکہ زیادہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ حضرت فاطمہ (رض) نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اس کو جلا کر راکھ بنایا، پھر اس راکھ کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زخم پر لگایا تو خون رک گیا۔