(۴۰۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَتْنَا أُمُّ یُونُسَ بِنْتُ شَدَّادٍ قَالَتْ حَدَّثَتْنِی حَمَاتِی أُمُّ جَحْدَرٍ الْعَامِرِیَّۃُ : أَنَّہَا سَأَلَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ دَمِ الْحَیْضَۃِ یُصِیبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ : کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ وَعَلَیْنَا شِعَارُنَا ، وَقَدْ أَلْقَیْنَا فَوْقَہُ کِسَائً ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ أَخَذَ الْکِسَائَ فَلَبِسَہُ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الْغَدَاۃَ ، ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذِہِ لُمْعَۃٌ مِنْ دَمٍ۔ فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ عَلَی مَا یَلِیہَا فَبَعَثَ إِلَیَّ مَصْرُورَۃً فِی یَدِ الْغُلاَمِ فَقَالَ : ((اغْسِلِی ہَذِہِ وَأَجِفِّیہَا ، ثُمَّ أَرْسِلِی بِہَا إِلَیَّ))۔ فَدَعَوْتُ بِقَصْعَتِی فَغَسَلْتُہَا ثُمَّ أَجْفَفْتُہَا فَأَحَرْتُہَا إِلَیْہِ ، فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بِنِصْفِ النَّہَارِ وَہُوَ عَلَیْہِ۔ (غ) قَوْلُہَا فَأَحَرْتُہَا إِلَیْہِ : یَعْنِی رَدَدْتُہَا إِلَیْہِ۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۳۸۸]
(٤٠٩٢) ام جحدر عامریہ نے حضرت عائشہ (رض) سے کپڑے کو حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھی اور ہمارے جسموں کے ساتھ لگنے والے کپڑے تھے، ان کے اوپر ہم نے چادریں اوڑھی ہوئی تھیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کے وقت وہ چادر لی اور اسے اوڑھ لیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی، ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے نبی ! اس کی رنگت خون کی وجہ سے بدلی ہوئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں سے کپڑا اکٹھا کر کے ایک بچے کے ہاتھ میں میری طرف بھیج دیا اور فرمایا : اس کو دھو اور خشک کر کے میری طرف بھیج دینا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے پیالے میں پانی منگوا کر اسے دھویا اور خشک کر کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واپس بھیج دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کو آئے تو وہی کپڑا اوڑھے ہوئے تھے۔