(۴۰۹۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عِصْمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُطَیَّنٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ ثُمَامَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ لَمْ یَخْلَعْ نَعْلَیْہِ فِی الصَّلاَۃِ إِلاَّ مَرَّۃً ، فَخَلَعَ النَّاسُ فَقَالَ : مَا لَکُمْ؟ ۔ قَالُوا : خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا۔ فَقَالَ : إِنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَخْبَرَنِی أَنَّ فِیہِمَا قَذَرًا ۔ لَفْظُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَجَّاجِ تَفَرَّدَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(ق) وَأَمَّا الَّذِی کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَفْعَلُہُ مِنَ الْبِنَائِ عَلَی الصَّلاَۃِ فِی ہَذَا وَفِی الرُّعَافِ ، فَقَدْ رُوِّینَا عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : یَسْتَأْنِفُ۔ وَہُوَ الْقِیَاسُ عَلَی الْوُضُوئِ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
[حسن۔ حاکم ۱/۲۳۵/۴۸۶]
(٤٠٩١) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کی حالت میں جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے کیوں اتارے ؟ انھوں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھ کو خبر دی کہ ان میں گندگی ہے۔
ابن عمر (رض) نکسیر اور متلی کی صورت میں پہلی نماز پر ہی بنا کرلیتے اور مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ وہ نئے سرے سے نماز پڑھے۔ وہ اس مسئلہ کو وضو پر قیاس کرتے تھے۔