(۴۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ یَعْنِی الأَزْرَقَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ مُتَقَلِّدًا بِسَیْفِہِ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ قِیلَ لَہُ: إِنَّ خَتَنَکَ وَأُخْتَکَ قَدْ صَبَئَا وَتَرَکَا دِینَکَ الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ۔ فَمَشَی عُمَرُ حَتَّی أَتَاہُمَا وَعِنْدَہُمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ یُقَالُ لَہُ خَباب وَکَانُوا یَقْرَئُ ونَ {طہ} فَقَالَ عُمَرُ: أَعْطُونِی الْکِتَابَ الَّذِی ہُوَ عِنْدَکُمْ فَأَقْرَأَہُ۔ قَالَ: وَکَانَ عُمَرُ یَقْرَأُ الْکِتَابَ، فَقَالَتْ أُخْتُہُ: إِنَّکَ رِجْسٌ ، وَإِنَّہُ لاَ یَمَسُّہُ إِلاَّ الْمُطَہَّرُونَ ، فَقُمْ فَاغْتَسِلْ أَوْ تَوَضَّأْ۔ قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ الْکِتَابَ فَقَرَأَ {طہ} وَلِہَذَا الْحَدِیثِ شَوَاہِدُ کَثِیرَۃٌ۔
(ق) وَہُوَ قَوْلُ الْفُقَہَائِ السَّبْعَۃِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۳۳]
(٤١٣) سیدنا انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر (رض) اپنی تلوار لٹکا کر نکلے، پھر انھوں نے حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ کا بہنوئی اور بہن بےدین ہوگئے ہیں اور انھوں نے تیرے دین کو چھوڑ دیا ہے تو سیدنا عمر (رض) چلے اور یہاں تک ان کے پاس آئے، ان کے پاس مہاجرین میں سے ایک شخص تھا جس کو خباب کہا جاتا تھا، وہ دونوں سورة طٰہٰ کی تلاوت کر رہے تھے، عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے پاس جو کتاب ہے وہ مجھے دو ، انھوں نے ان کو پڑھ کر سنایا اور سیدنا عمر (رض) کتاب پڑھا کرتے تھے۔ ان کی بہن نے کہا : بلاشبہ تم ناپاک ہو اس کو تو صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں آپ جا کر غسل کریں یا وضو، راوی کہتا ہے : سیدنا عمر (رض) کھڑے ہوئے، وضو کیا کتاب پکڑی اور سورة طٰہٰ کی تلاوت کی۔ اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔
(ب) اہل مدینہ کے فقہائے سبعہ کا قول ہے۔