(۴۱۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بِقَبْرَیْنِ فَقَالَ : ((إِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ وَمَا یُعَذَّبَانِ فِی کَبِیرٍ ، أَمَّا أَحَدُہُمَا فَکَانَ یَمْشِی بِالنَّمِیمَۃِ ، وَأَمَّا الآخَرُ فَکَانَ لاَ یَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ))۔ثُمَّ أَخَذَ جَرِیدَۃً رَطْبَۃً فَشَقَّہَا نِصْفَیْنِ ، ثُمَّ جَعَلَ فِی کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَۃً ، قَالَ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ لِمَ فَعَلْتَ ہَذَا؟ قَالَ : ((لَعَلَّہُمَا أَنْ یُخَفَّفَ عَنْہُمَا مَا لَمْ یَیْبَسَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم]
(٤١٤٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) د و قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور انھیں کسی بڑے جرم کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک چغلی کھاتا تھا اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تر چھڑی پکڑی اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کرکے قبروں پر گاڑ دیا، لوگوں نے کہا : آپ نے یہ کیوں کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف ہوجائے گی۔