(۴۲۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ بِأَعْلَی صَوْتِہِ : اجْتَنِبُوا اللَّغْوَ فِی الْمَسْجِدِ۔ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَکُنْتُ أَبِیْتُ فِی الْمَسْجِدِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ وَکُنْتُ فَتًی شَابًّا عَزَبًا ، وَکَانَتِ الْکِلاَبُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِی الْمَسْجِدِ فَلَمْ یَکُونُوا یَرُشُّونَ مِنْ ذَلِکَ شَیْئًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِیبٍ حَدَّثَنِی أَبِی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ الْمُسْنَدَ مُخْتَصَرًا وَقَالَ فِی لَفْظِ الْحَدِیثِ : فَلَمْ یَکُونُوا یَرُشُّونَ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ ، وَلَیْسَ فِی بَعْضِ النُّسَخِ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الْبُخَارِیِّ کَلِمَۃُ الْبَوْلِ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ قَالَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ فِی مَعْنَی الْخَبَرِ : أَنَّ الْمَسْجِدَ لَمْ یَکُنْ یُغْلَقَ عَلَیْہَا ، وَکَانَتْ تَتَرَدَّدُ فِیہِ ، وَعَسَاہَا کَانَتْ تَبُولُ ، إِلاَّ أَنَّ عِلْمَ بَوْلِہَا فِیہِ لَمْ یَکُنْ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ وَأَصْحَابِہِ وَلاَ عِنْدَ الرَّاوِی أَیُّ مَوْضِعٍ ہُوَ ، وَمِنْ حَیْثُ أَمَرَ فِی بَوْلِ الأَعْرَابِیِّ بِمَا أَمَرَ دَلَّ ذَلِکَ عَلَی أَنَّ بَوْلَ مَا سِوَاہُ فِی حُکْمِ النَّجَاسَۃِ وَاحِدٌ ، وَإِنِ اخْتَلَفَ غِلَظُ نَجَاسَتِہَا۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رُوِّینَا فِی حَدِیثِ مَیْمُونَۃَ فِی قِصَّۃِ جَرْوِ الْکَلْبِ فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ ﷺ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِہِ مَائً فَنَضَحَ بِہِ مَکَانَہُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی غُسْلِ الإِنَائِ مِنْ وُلُوغِہِ بِعَدَدٍ وَإِرَاقَۃِ الْمَائِ الَّذِی وَلَغَ فِیہِ الْکَلْبُ، وَفِی کُلِّ ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی نَجَاسَتِہِ۔ [صحیح]
(٤٢٤٤) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) بلند آواز سے مسجد میں فرمایا کرتے تھے : مسجد میں لغو باتوں سے پرہیز کرو۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں مسجد میں رات گزارتا تھا اور میں کنوارا نوجوان تھا، کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب کرتے تھے، لیکن لوگ چھینٹے بھی نہیں مارتے تھے۔
(ب) ابوبکر اسماعیلی فرماتے ہیں کہ مسجد ان دنوں بند نہیں ہوتی تھی، ممکن ہے وہ پیشاب کر جاتے ہوں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، صحابہ کرام اور راوی کو اس جگہ کا علم نہ ہو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعرابی کے پیشاب کے بارے میں جو حکم دیا ہے وہ بھی اسی نجاست کے حکم میں ہے۔
(ج) میمونہ (رض) فرماتی ہیں : کتے کے بچے کے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا، اس کو نکالا گیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی لے کر اس جگہ پر چھڑک دیا۔
(د) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ کتے کے برتن میں منہ ڈالنے کی وجہ اس کو کئی مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے اور اس پانی کو بہا دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔