(۴۲۴۵) وَأخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی ابْنُ السَّبَّاقِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ حَدَّثَتْنِی مَیْمُونَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ ﷺ : أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ أَصْبَحَ یَوْمًا وَاجِمًا فَقَالَتْ لَہُ مَیْمُونَۃُ : أَیْ رَسُولَ اللَّہِ لَقَدِ اسْتَنْکَرْتُ ہَیْئَتَکَ مُنْذُ الْیَوْمِ۔فَقَالَ : ((إِنَّ جِبْرِیلَ کَانَ وَعَدَنِی أَنْ یَلْقَانِی اللَّیْلَۃَ فَلَمْ یَلْقَنِی ، أَمَا وَاللَّہِ مَا أَخْلَفَنِی))۔قَالَتْ : فَظَلَّ یَوْمَہُ کَذَلِکَ ثُمَّ وَقَعَ فِی نَفْسِہِ جِرْوُ کَلْبٍ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا ، فَأَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِہِ مَائً فَنَضَحَ بِہِ مَکَانَہُ ، فَلَمَّا أَمْسَی لَقِیَہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((قَدْ کُنْتَ وَعَدْتَنِی أَنْ تَلْقَانِی الْبَارِحَۃَ))۔قَالَ : أَجَلْ وَلَکِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ وَلاَ صُورَۃٌ۔قَالَ : فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَأَمَرَ مِنْ ذَلِکَ الْیَوْمِ بِقَتْلِ الْکِلاَبِ حَتَّی أَنَّہُ لَیَأْمُرُ بِقَتْلِ کَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِیرِ وَیَتْرُکُ کَلْبَ الْحَائِطِ الْکَبِیرَ۔
قَدْ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔
وَفِیہِ إِثْبَاتُ نَضْحِ مَکَانِ الْکَلْبِ بِالْمَائِ ، وَفِیہِ وَفِیمَا مَضَی مِنْ کِتَابِ الطَّہَارَۃِ فِی غَسْلِ الإِنَائِ مِنْ وُلُوغِہِ وَإِرَاقَۃِ الْمَائِ الَّذِی وَلَغَ فِیہِ دَلِیلٌ عَلَی نَجَاسَتِہِ ، وَعَلَی نَسْخِ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فِی الْکَلْبِ إِنْ کَانَ یُخَالِفُہُ ، مَعَ أَنَّہُ یُحْتَمَلُ مَا ذَکَرَہُ الإِسْمَاعِیلِیُّ وَغَیْرُہُ ، فَلاَ یَکُونُ مُخَالِفًا لَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ مسلم ۲۱۰۵]
(٤٢٤٥) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت میمونہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غم کی حالت میں صبح کی۔ میمونہ (رض) نے فرمایا : آج میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عجیب حالت دیکھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ملے نہیں تھے، حالانکہ انھوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پورا دن ویسے ہی رہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذہن میں کتے کے بچے کا خیال آیا، جو ہمارے سامان کے نیچے تھا۔ اس کو نکالا گیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی لے کر اس جگہ پر چھینٹے مارے تو شام کے وقت جبرائیل بھی مل گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ نے تو گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا ؟ جبرائیل (علیہ السلام) کہنے لگے : جی ہاں ! لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔ صبح کے وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتوں کے قتل کا حکم دے دیا، لیکن بڑے باغ کی رکھوالی والے کتے کو چھوڑ دیا اور چھوٹے باغ کی رکھوالی والے کتے کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔