(۴۲۷۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قُمْتُ یَوْمًا أُصَلِّی وَبَیْنَ یَدَیَّ قَبْرُ لاَ أَشْعُرُ بِہِ ، فَنَادَانِی عُمَرُ : الْقَبْرَ الْقَبْرَ ، فَظَنَنْتُ أَنَّہُ یَعْنِی الْقَمَرَ ، فَقَالَ لِی بَعْضُ مَنْ یَلِینِی : إِنَّمَا یَعْنِی الْقَبْرَ فَتَنَحَّیْتُ عَنْہُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُصَلِّی إِلَی حُشٍّ أَوْ حَمَّامٍ أَوْ قَبْرٍ۔
وَکُلُّ ذَلِکَ عَلَی وَجْہِ الْکَرَاہِیَۃِ إِذَا لَمْ یَعْلَمْ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِی تُصِیبُہُ بِبَدَنِہِ وَثِیَابِہِ نَجَاسَۃٌ لَمَّا رُوِّینَا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ : ((جُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَیِّبَۃً طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأَیُّمَا رَجُلٍ أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ صَلَّی حَیْثُ کَانَ))۔ [صحیح۔ بخاری، معلق]
(٤٢٧٧) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا اور میرے سامنے قبر تھی، مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ حضرت عمر (رض) نے مجھے آواز دی۔ قبر، قبر ! میں اس کو قمر سمجھتا رہا، میرے پاس والوں نے مجھے بتایا کہ قبر ہے تو میں الگ ہوگیا۔
(ب) ابن عباس (رض) بیت الخلاء، حمام اور قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(ج) ثابت البنانی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمین میرے لیے پاکیزہ اور مسجد بنائی گئی ہے۔ جب نماز کا وقت ہو تو جہاں چاہے نماز پڑھ لے۔