(۴۲۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَکْرَہُ أَنْ یُصَلَّی وَسَطَ الْقُبُورِ؟ قَالَ : لَقَدْ صَلَّیْنَا عَلَی عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَسَطَ الْبَقِیعِ وَالإِمَامُ یَوْمَ صَلَّیْنَا عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، وَحَضَرَ ذَلِکَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ۔
[حسن۔ اخرجہ یعقوب بن سفیان فی المعرفہ والتاریخ ۱/۷۸]
(٤٢٧٨) ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے نافع سے پوچھا : کیا ابن عمر (رض) قبرستان کے درمیان نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے ؟ انھوں نے فرمایا : ہم نے حضرت عائشہ (رض) ، ام سلمہ (رض) پر بقیع قبرستان کے درمیان نماز پڑھی اور امام ابوہریرہ (رض) تھے اور اس میں حضرت ابن عمر (رض) بھی شریک ہوئے۔