(۴۲۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فِی حَدِیثِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ یَسْجُدُ عَلَی عَبْقَرِیٍّ۔
قَالَ أَبُوعُبَیْدٍ حَدَّثَنِیہِ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ تَوْبَۃَ الْعَنْبَرِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمَّارٍ أَنَّہُ رَأَی عُمَرَ فَعَلَ ذَلِکَ۔ قَالَ یَحْیَی: ہُوَ عَبْدُاللَّہِ بْنُ أَبِی عَمَّارٍ وَلَکِنْ سُفْیَانُ قَالَ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمَّارٍ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : قَوْلُہُ عَبْقَرِیٌّ ہُوَ ہَذِہِ الْبُسُطُ الَّتِی فِیہَا الأَصْبَاغُ وَالنُّقُوشُ ، وَاحِدُہَا عَبْقَرِیَّۃٌ ، وَإِنَّمَا سُمِّیَ عَبْقَرِیًّا فِیمَا یُقَالُ إِنَّہُ نِسْبَۃٌ إِلَی بِلاَدٍ یُقَالُ لَہُ عَبْقَرٌ یُعْمَلُ بِہَا الْوَشْیُ۔ [حسن]
(٤٢٨٣) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبقر شہر کی بنی ہوئی چٹائی پر سجدہ کرتے تھے۔
ابو عبید کہتے ہیں کہ عبقری سے مراد ایسی چٹائی جو رنگی ہوئی ہو اور اس کے اندر نقوش ہوں، اس کی واحد عبقریۃ آتی ہے۔ عبقری ایک شہر کی طرف نسبت کی وجہ سے کہتے ہیں جس میں نقش و نگار کا کام ہوتا ہو۔