hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 4295

.

سنن البيهقي

4295
Sunan Al Bayhaqi
۴۲۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ الْمَدِینَۃَ ، فَنَزَلَ فِی عُلْوِ الْمَدِینَۃِ فِی حَیٍّ یُقَالَ لَہُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَأَقَامَ فِیہِمْ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی بَنِی النَّجَّارِ ، فَجَائُ وا مُتَقَلِّدِینَ بِسُیُوفِہِمْ قَالَ أَنَسٌ فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ ﷺ عَلَی رَاحِلَتِہِ وَأَبُو بَکْرٍ رِدْفَہُ وَمَلأُ بَنِی النَّجَّارِ حَوْلَہُ حَتَّی أَلْقَی بِفِنَائِ أَبِی أَیُّوبَ ، وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُصَلِّیَ حَیْثُ أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ ، وَیُصَلِّی فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَإِنَّہُ أَمَرَ بِبِنَائِ الْمَسْجِدِ ، فَأَرْسَلَ إِلَی بَنِی النَّجَّارِ : ((ثَامِنُونِی بِحَائِطِکُمْ ہَذَا))۔فَقَالُوا : وَاللَّہِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَہُ إِلاَّ إِلَی اللَّہِ۔قَالَ أَنَسٌ : فَکَانَ فِیہِ مَا أَقُولُ لَکُمْ ، کَانَتْ فِیہِ قُبُورُ الْمُشْرِکِینَ ، وَکَانَتْ فِیہِ خِرَبٌ ، وَکَانَ فِیہِ نَخْلٌ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بِقُبُورِ الْمُشْرِکِینَ فَنُبِشَتْ ، وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّیَتْ ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَۃَ الْمَسْجِدِ ، وَجَعَلُوا عِضَادَتَیْہِ حِجَارَۃً ، وَجَعَلُوا یَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَہُمْ یَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِیُّ ﷺ مَعَہُمْ وَیَقُولُونَ : اللَّہُمَّ لاَ خَیْرَ إِلاَّ خَیْرُ الآخِرَہْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ [صحیح۔ تقدم]
(٤٢٩٥) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے تو مدینہ کے بالائی علاقے میں قبیلہ عمرو بن عوف کے ہاں چودہ دن قیام کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نجار کے پاس کسی کو روانہ کیا تو وہ ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئے۔ انس (رض) فرماتے ہیں : گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی خچر پر سوار ہیں اور ابوبکر صدیق (رض) آپ کے پیچھے اور بنو نجار کے سردار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوایوب انصاری (رض) کے گھر کے صحن میں اترے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز ادا کرلیتے جب وقت ہوجاتا اور بکریوں کے باڑے میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد بنانے کا حکم دیا اور بنونجار کی طرف کسی کو بھیجا کہ اپنی اس جگہ کی قیمت لے لو تو انھوں نے قیمت لینے سے انکار کردیا، حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : اس زمین میں مشرکین کی قبریں، ویرانہ اور کھجوریں تھیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کی قبروں کو اکھاڑنے کا حکم دیا وہ اکھاڑ دی گئیں اور ویرانے کو برابر کردیا گیا اور کھجوریں کاٹ دی گئیں۔ انھوں نے کھجوروں کو مسجد کے سامنے کھڑا کردیا اور پتھروں کی چوکھٹ بنادی۔ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور شعر پڑھ رہے تھے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے ساتھ تھے۔ اے اللہ ! بھلائی صرف آخرت کی ہے۔ تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔