(۴۳۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ شَرِیکِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَمِرٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : دَخَلَ رَجُلٌ عَلَی جَمَلٍ فَأَنَاخَہُ فِی الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ عَقَلَہُ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّکُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّہِ ﷺ مُتَّکِئٌ بَیْنَ ظَہْرَانَیْہِمْ ، فَقُلْنَا لَہُ: ہَذَا الأَبْیَضُ الْمُتَّکِئُ ، فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ: یَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ﷺ: ((قَدْ أَجَبْتُکَ))۔ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : یَا مُحَمَّدُ إِنِّی سَائِلُکَ۔قَالَ وَسَاقَ الْحَدِیثَ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ۔
وَرُوِیَ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرَہُ وَسَمَّی الرَّجُلَ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَۃَ وَقَالَ عَنِ اللَّیْثِ : فَأَنَاخَ بَعِیرَہُ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ عَقَلَہُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۳، ابن خزیمہ ۲۳۵۸]
(٤٣٣١) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ اونٹ پر ایک شخص داخل ہوا۔ اس نے اونٹ کو مسجد کو بٹھا کر اس کا گھٹنا باندھ دیا اور کہنے لگا : تم میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون ہے ؟ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ صحابہ نے کہا : یہ ہیں سفید ٹیک لگائے ہوئے۔ وہ کہنے لگا : اے عبدالمطلب کے بیٹے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی میں آپ کی بات سنتا ہوں۔ اس نے کہا : میں آپ سے ایک سوال کرنے آیا ہوں۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس شخص کا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔ لیث کہتے ہیں : اس نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے کے قریب بٹھایا اور اس کا گھٹنا باندھا، پھر مسجد میں داخل ہوا۔