(۴۳۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : اسْتُعْمِلَ عَلَی الْمَدِینَۃِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ فَدَعَا سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَہُ أَنْ یَشْتِمَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فَأَبَی سَہْلٌ ، فَقَالَ لَہُ : أَمَّا إِذْ أَبَیْتَ فَقُلْ لَعَنَ اللَّہُ أَبَا تُرَابٍ۔فَقَالَ سَہْلٌ : مَا کَانَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْمٌ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ أَبِی تُرَابٍ ، وَإِنْ کَانَ لَیَفْرَحُ إِذَا دُعِیَ بِہَا۔فَقَالَ لَہُ : أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِہِ لِمَ سُمِّیَ أَبَا تُرَابٍ۔قَالَ : جَائَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بَیْتَ فَاطِمَۃَ فَلَمْ یَجِدْ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْبَیْتِ فَقَالَ لَہَا : أَیْنَ ابْنُ عَمِّکِ؟ ۔فَقَالَتْ : کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ شَیْئٌ ، فَغَاضَبَنِی فَخَرَجَ ، وَلَمْ یَقِلْ عِنْدِی۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ لإِنْسَانٍ : ((انْظُرْ أَیْنَ ہُوَ؟))۔فَجَائَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہُوَ فِی الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ۔فَجَائَ ہُ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَہْوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُہُ عَنْ شِقِّہِ فَأَصَابَہُ تُرَابٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یَمْسَحُہُ عَنْہُ وَیَقُولُ : ((قُمْ أَبَا تُرَابٍ قُمْ أَبَا تُرَابٍ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [بخاری ۳۷۰۳، مسلم ۲۴۰۹]
(٤٣٤٠) سہل بن سعد فرماتے ہیں : آلِ مروان کا کوئی شخص مدینہ پر حاکم بنایا گیا، اس نے سہل بن سعد کو بلا کر حضرت علی (رض) کو گالی دینے کا حکم دیا۔ سہل بن سعد (رض) نے انکار کردیا تو اس نے کہا : اگر آپ گالی نہیں دے سکتے تو کم از کم اتنا کہہ دو کہ اللہ علی پر لعنت کرے۔ سہل بن سعد نے فرمایا : حضرت علی (رض) کو ابو تراب نام سب ناموں سے زیادہ محبوب تھا۔ جب ان کو اس نام سے پکارا جاتا تو بڑی خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ ان کا نام ابو تراب کیوں رکھا گیا ؟ فرمانے لگے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فاطمہ (رض) کے گھر آئے تو حضرت علی (رض) موجود نہ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فاطمہ ! تیرے چچا کا بیٹا (علی (رض) ) کہا گیا۔ فرمانے لگیں : میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوئی تو وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور واپس نہیں لوٹے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی بندے سے کہا : دیکھو وہ کہاں ہیں ؟ اس بندے نے آ کر جواب دیا : اے اللہ کے رسول ! وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے تو حضرت علی (رض) لیٹے ہوئے تھے اور ان کے پہلو سے چادر ہٹی ہوئی تھی اور ان کو مٹی لگی ہوئی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مٹی کو صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ اے ابو تراب ! اٹھو، اے ابو تراب ! اٹھو۔