(۴۳۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی الأَسْوَدِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا یُونُسُ : أَنَّ الْحَسَنَ سُئِلَ عَنِ الْقَائِلَۃِ فِی الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : رَأَیْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ خَلِیفَۃٌ یَقِیلُ فِی الْمَسْجِدِ ، وَیَقُومُ وَأَثَرُ الْحَصَی بِجَنْبِہِ فَیَقُولُ : ہَذَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ ہَذَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ۔
قَالَ یُونُسُ بِإِصْبَعِہِ وَحَرَّکَ أَبُو بَکْرٍ إِصْبَعَہُ السَّبَّابَۃَ وَنَحْنُ یَوْمَئِذٍ غِلْمَانٌ۔قُلْتُ لِیُونُسَ : ابْنُ کَمْ کَانَ الْحَسَنُ یَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ؟ قَالَ : ابْنَ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ ، وُلِدَ الْحَسَنُ لِسَنَتَیْنِ بَقِیَتَا مِنْ خِلاَفَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ ثُمَّ عَنْ مُجَاہِدٍ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ مَا یَدُلُّ عَلَی کَرَاہِیَتِہِمُ النَّوْمَ فِی الْمَسْجِدِ ، فَکَأَنَّہُمُ اسْتَحَبُّوا لِمَنْ وَجَدَ مَسْکَنًا أَنْ لاَ یَقْصِدَ الْمَسْجِدَ لِلنَّوْمِ فِیہِ۔ [ضعیف]
(٤٣٤١) حضرت حسن (رح) سے سوال کیا گیا کہ مسجد میں قیلولہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو دیکھا جب وہ خلیفہ تھے تو مسجد میں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ جب وہ بیدار ہوئے تو کنکریوں کے نشانات ان کے پہلو پر ہوتے تھے۔ تو وہ فرماتے : یہ ہیں امیرالمومنین۔
(ب) راوی یونس نے اپنی انگلی کو حرکت دی اور ابوبکر نے بھی اپنی انگلی کو حرکت دی اور اس وقت ہم بچے تھے، ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یونس سے کہا : حضرت حسن کی عمر کتنی تھی جب حضرت عثمان بن عفان (رض) شہید کیے گئے ؟ انھوں نے فرمایا : چودہ سال۔ حضرت حسن کی پیدائش ہوئی تو حضرت عمر کی خلافت کے دو سال باقی تھے۔
(ح) سعید بن جبیر فرماتے ہیں : مسجد میں سونا ان کے لیے ناپسندیدہ ہے جن کی اپنی رہائش گاہ موجود ہو۔