(۴۳۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَیْلٍ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ : صَلَّیْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ صَلاَۃً مَکْتُوبَۃً فَضَمَّ یَدَہُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا صَلَّی قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَحَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((لاَ إِلاَّ أَنَّ الشَّیْطَانَ أَرَادَ أَنْ یَمُرَّ بَیْنَ یَدَیَّ ، فَخَنَقْتُہُ حَتَّی وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِہِ عَلَی یَدِی ، وَایْمُ اللَّہِ لَوْلاَ مَا سَبَقَنِی إِلَیْہِ أَخِی سُلَیْمَانُ لاَرْتُبِطَ إِلَی سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ حَتَّی یُطِیفَ بِہِ وِلْدَانُ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ))۔
وَقَدْ مَضَی مَعْنَی ہَذَا فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَفِی حَدِیثِ أَبِی الدَّرْدَائِ ۔ [حسن۔ عبدالرزاق ۲۳۳۸، احمد ۲۰۴۹۵]
(٤٣٦١) جابر بن سمرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ فرض نماز پڑھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کی حالت میں اپنا ہاتھ ملایا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھ لی تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! نماز میں کوئی نئی چیز آئی ہے یعنی حکم۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ شیطان نے میرے سامنے سے گزرنے کی کوشش کی ۔ میں نے اس کی گردن دبا دی تو اس کی زبان کی ٹھنڈک میں نے اپنے ہاتھ میں محسوس کی۔ اللہ کی قسم ! اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا سبقت نہ لے جا چکی ہوتی تو میں اس کو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیتا اور صبح مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔