(۴۳۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ وَأَخْبَرَنِی الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّ الْمَنِیعِیَّ قَالَ: إِلَی بَعِیرِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔
وَہَذَا وَإِنْ لَمْ یَکُنْ صَلاَۃٌ فِی مَوْضِعِ الإِبِلِ فَہِیَ صَلاَۃٌ قُرْبُ الإِبِلِ، ثُمَّ کَانَتْ جَائِزَۃً لِطَہَارَۃِ الْمَکَانِ، کَمَا کُرِہَ الصَّلاَۃُ قُرْبَ الشَّیْطَانِ فِی خَبَرٍ آخَرَ ثُمَّ مَرَّ بِہِ الشَّیْطَانُ فِی صَلاَتِہِ فَخَنَقَہُ ، وَلَمْ یُفْسِدْ عَلَیْہِ صَلاَتَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٤٣٦٣) اگرچہ یہ نماز اونٹوں کے باڑے میں نہیں لیکن اونٹ کے قریب ہے تو پھر اونٹوں والی جگہ پاک ہوئی۔ جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں شیطان کے قریب نماز پڑھنے کو ناپسند کیا گیا ہے۔ لیکن جب شیطان حالتِ نماز میں آپ کے پاس سے گزرا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی گردن دبائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز باطل نہیں ہوئی۔