(۴۳۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُہَاجِرٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّ أَنَّہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ اللَّیْلِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : ((جَوْفُ اللَّیْلِ الآخِرِ فَصَلِّ مَا شِئْتَ ، فَإِنَّ الصَّلاَۃَ مَشْہُودَۃٌ مَکْتُوبَۃٌ حَتَّی تُصَلِّیَ الصُّبْحَ ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَتَرْتَفِعَ قِیسَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَیْنِ ، فَإِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ وَیُصَلِّی لَہَا الْکُفَّارُ ، ثُمَّ صَلِّ مَا شِئْتَ ، فَإِنَّ الصَّلاَۃَ مَشْہُودَۃٌ مَکْتُوبَۃٌ حَتَّی یَعْدِلَ الرُّمْحُ ظِلَّہُ ، ثُمَّ أَقْصِرْ فَإِنَّ جَہَنَّمَ تُسْجَرُ وَتُفْتَحُ أَبْوَابُہَا ، فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ ، فَإِنَّ الصَّلاَۃَ مَشْہُودَۃٌ حَتَّی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّہَا تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ فَیُصَلِّی لَہَا الْکُفَّارُ))۔قَالَ : وَقَصَّ حَدِیثًا طَوِیلاً۔ [ابن خزیمہ ۲۶۰]
(٤٣٨٦) عمرو بن عبسہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! رات کے کس حصہ میں (دُعا) زیادہ سنی جاتی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کے آخری حصہ میں۔ نماز پڑھ جتنی تو چاہے۔ کیونکہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لیں، پھر سورج کے طلوع ہونے تک نماز سے رک جاؤ جب تک سورج ایک یا دو نیزے بلند ہوجائے، وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھ جتنی تو چاہے، کیونکہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ سایہ ایک نیزے کے برابر ہوجائے۔ پھر نماز سے رک جا ؛کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جب سورج ڈھل جائے تو جتنی چاہو نماز پڑھو۔ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو۔ پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے۔ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر انھوں نے لمبی حدیث بیان کی۔