(۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ قَالَ قَالَ أَبُو زَکَرِیَّا یَعْنِی یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ حَدِیثُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُکَیْمٍ: جَائَنَا کِتَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-: ((أَلاَّ تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِإِہَابٍ وَلاَ عَصَبٍ))فِی حَدِیثِ ثِقَاتِ النَّاسِ حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-کَتَبَ: ((أَلاَّ تَنْتَفِعُوا))
(ق) قَالَ الشَّیْخُ یَعْنِی بِہِ أَبُو زَکَرِیَّا رَحِمَہُ اللَّہُ: تَعْلِیلَ الْحَدِیثِ بِذَلِکَ وَہُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَی مَا قَبْلَ الدَّبْغِ بِدَلِیلِ مَا ہُوَ أَصَحُّ مِنْہُ فِی الأَبْوَابِ الَّتِی تَلِیہِ۔ [صحیح۔ نصب الرایہ ۱/۱۱۵]
(٤٤) یحییٰ بن معین نے فرمایا کہ حدیث عبداللہ بن عکیم (رض) کہ ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خط آیا (جس میں لکھا تھا) کہ تم مردار کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کرو اور نہ ہی اس کے پٹھوں سے فائدہ اٹھاؤ، ایک اور قوی سند کے ساتھ ہمارے اصحاب نے ہم کو بیان کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھا : ” تم نفع نہ اٹھاؤ۔ “
شیخ ابو زکریا (رح) اسی حدیث کی علت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ چمڑا رنگنے سے پہلے پر محمول ہے۔ اس کی دلیل اگلے ابواب میں صحیح (اسناد سے) وارد احادیث ہیں۔