(۴۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ قَدِمَ عَلَیْنَا قَصَبَۃَ خُسْرَوْجِرْدَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلَکِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بِصُورٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ کَعْبٍ الْحَلَبِیُّ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ عِیسَی الْحَنَّاطِ قَالَ قُلْتُ لِلشَّعْبِیِّ : وَأَنَا أَعْجَبُ مِنَ اخْتِلاَفِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : دَخَلْتُ بَیْتَ حَفْصَۃَ فَحَانَتْ الْتِفَاتَۃٌ فَرَأَیْتُ کَنِیفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔
وَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : إِذَا أَتَی أَحَدُکُمُ الْغَائِطَ فَلاَ یَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ وَلاَ یَسْتَدْبِرْہَا۔
قَالَ الشَّعْبِیُّ : صَدَقَا جَمِیعًا، أَمَّا قَوْلُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَہُو فِی الصَّحْرَائِ ، إِنَّ لِلَّہِ عِبَادًا مَلاَئِکَۃٌ وَجِنٌّ یُصَلُّونَ فَلاَ یَسْتَقْبِلْہُمْ أَحَدٌ بِبَوْلٍ وَلاَ غَائِطٍ وَلاَ یَسْتَدْبِرُہُمْ ، وَأَمَّا کُنُفُہُمْ ہَذِہِ فَإِنَّمَا ہُوَ بَیْتٌ یُبْنَی لاَ قِبْلَۃَ فِیہِ۔
(ت) وَہَکَذَا رَوَاہُ مُوسَی بْنُ دَاوُدَ وَغَیْرُہُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ (ج) إِلاَّ أَنَّ عِیسَی بْنَ أَبِی عِیسَی الْحَنَّاطَ ہَذَا ہُوَ عِیسَی بْنُ مَیْسَرَۃَ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
(٤٤٢) (الف) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں سیدہ حفصہ (رض) کے گھر میں داخل ہوا، اچانک نظر پڑی تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیت الخلاء کا منہ قبلہ کی طرف دیکھا۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : جب تم سے کوئی قضائے حاجت کو آئے تو وہ اپنا منہ اور پیٹھ قبلہ کی طرف نہ کرے۔
(ج) شعبی کہتے ہیں : دونوں نے سچ کہا، ابوہریرہ (رض) کا قول صحرا کے بارے میں ہے کہ بلاشبہ اللہ کے بندے فرشتے اور جن نماز ادا کرتے ہیں تو صحرا میں قضائے حاجت اور پیشاب کرتے وقت ان کی طرف منہ نہ کیا کریں اور نہ ہی پیٹھ کریں اور ان کے بیت الخلاء گھر ہیں جن میں قبلہ نہیں ہے۔