(۴۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی الصَّلْتِ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی خِلاَفَتِہِ وَعِنْدَہُ عِرَاکُ بْنُ مَالِکٍ فَقَالَ عُمَرُ : مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَۃَ وَلاَ اسْتَدْبَرْتُہَا بِبَوْلٍ وَلاَ غَائِطٍ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا۔
فَقَالَ عِرَاکٌ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا بَلَغَہُ قَوْلُ النَّاسِ فِی ذَلِکَ أَمَرَ بِمَقْعَدَتِہِ فَاسْتَقْبَلَ بِہَا الْقِبْلَۃَ۔
(ت) تَابَعَہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ فِی إِقَامَۃِ إِسْنَادِہِ وَرَوَاہُ عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عَائِشَۃَ۔ وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ وَغَیْرُہُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِرَاکٍ عَنْ عَائِشَۃَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ احمد ۶/۱۸۴]
(٤٤١) خالد بن ابو صلت سے روایت ہے کہ میں عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت میں ان کے پاس تھا اور ان کے پاس عراک بن مالک بھی تھے، عمر (بن عبدالعزیز (رض) ) نے فرمایا : اتنے عرصہ سے میں نے پیشاب اور قضائے حاجت کرنے کے لیے قبلہ کی طرف نہیں کیا اور نہ ہی پیٹھ۔ عراک کہتے ہیں : مجھ کو سیدہ عائشہ (رض) نے بیان کیا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں لوگوں کی بات پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ٹیک لگانے کی جگہ کو قبلہ کی طرف کرنے کا حکم دے دیا۔