(۴۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلَکِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی سَفَرٍ ، وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ تَبَاعَدَ حَتَّی لاَ یَرَاہُ أَحَدٌ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً بِفَلاَۃٍ مِنَ الأَرْضِ لَیْسَ فِیہَا عَلَمٌ وَلاَ شَجَرٌ ، فَقَالَ لِی : ((یَا جَابِرُ خُذِ الإِدَاوَۃَ وَانْطَلِقْ بِنَا))۔ فَمَلأْتُ الإِدَاوَۃَ مَائٌ ، وَانْطَلَقْنَا فَمَشَیْنَا حَتَّی لاَ نَکَادَ نُرَی ، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بَیْنَہُمَا أَذْرُعٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا جَابِرُ انْطَلِقْ فَقُلْ لِہَذِہِ الشَّجَرَۃِ : یَقُولُ لَکَ رَسُولُ اللَّہِ الْحَقِی بِصَاحِبَتِکِ حَتَّی أَجْلِسَ خَلْفَکُمَا))۔ فَفَعَلْتُ فَرَجَفَتْ حَتَّی لَحِقَتْ بِصَاحِبَتِہَا ، فَجَلَسَ خَلْفَہُمَا حَتَّی قَضَی حَاجَتَہُ۔
(ت) وَرُوِیَ فِی إِبْعَادِ الْمَذْہَبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی قُرَادٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔
[صحیح۔ بشواھدہ أخرجہ الدارمی ۱۷]
(٤٤٤) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر میں تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور چلے جاتے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی بھی نہ دیکھتا۔ ہم ایک صاف زمین میں اترے جس میں کوئی نشان اور درخت نہ تھا (صحرا وغیرہ) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے جابر ! برتن پکڑ اور میرے ساتھ چل، میں نے پانی کا برتن بھرا ہم پیدل ہی چلے یہاں تک کہ ہم اتنے قریب نہ رہے کہ دیکھے جائیں۔ دو درخت الگ الگ تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جابر ! جا اور اس درخت کو کہہ تم کو رسول اللہ کہہ رہے ہیں کہ اپنے ساتھی (درخت) سے مل جاؤ تاکہ میں تم دونوں کے پیچھے بیٹھ جاؤں۔ میں نے ایسے ہی کہا جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا۔ اس درخت نے حرکت کی اور اپنے ساتھی درخت سے مل گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے بیٹھے اور اپنی حاجت کو پورا کیا۔