(۴۴۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدِ بْنِ قَیْسٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ یُدْعَی الْمُخْدَجِیَّ سَمِعَ رَجُلاً بِالشَّامِ یُدْعَی أَبَا مُحَمَّدٍ یَقُولُ : إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ۔قَالَ الْمُخْدَجِیُّ : فَرُحْتُ إِلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَاعْتَرَضْتُ لَہُ وَہُوَ رَائِحٌ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ : کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ کَتَبَہُنَّ اللَّہُ عَلَی الْعِبَادِ ، فَمَنْ جَائَ بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ مِنْہُنَّ شَیْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّہِنَّ ، کَانَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنْ لَمْ یَأْتِ بِہِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ ، وَإِنْ شَائَ أَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ))۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ۳۱۶۶-۲۲۲۶]
(٤٤٥٠) محمد بن یحییٰ بن حبان ابن محیریز سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو کنانہ کا ایک شخص جس کو مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام میں ایک شخص سے سنا جس کو ابو محمد کہا جاتا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وتر واجب ہے۔ مخرجی کہتے ہیں : میں عبادہ بن صامت (رض) کے پاس گیا اور میں نے ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا، وہ مسجد کی طرف جا رہے تھے تو میں نے ان کو وہ بات بتائی جو ابومحمد نے کہی تھی۔ عبادہ (رض) فرمانے لگے : ابومحمد نے غلطی کی۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کیں ہیں۔ جس نے یہ پانچ نمازیں پڑھیں اور ان کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہ کیا تو اللہ کا اس بندے سے وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ جو بندہ ان پانچ نمازوں کی طرف نہ آیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔