(۴۴۵۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ ثُمَّ مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ لَقِیَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، فَسَأَلَہُ عَنِ الْوِتْرَ فَقَالَ : إِنَّہُ وَاجِبٌ۔
قَالَ الْکِنَانِیُّ فَلَقِیتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، فَذَکَرْتُ لَہُ ذَلِکَ فَقَالَ : کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فَرَضَہُنَّ اللَّہُ عَلَی الْعِبَادِ ، مَنْ أَتَی بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ شَیْئًا مِنْہُنَّ کَانَ لَہُ عَہْدٌ عَلَی اللَّہِ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنْ لَمْ یَأْتِ بِہِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ ، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ ، وَإِنْ شَائَ رَحِمَہُ))۔ [صحیح۔ تقدم]
(٤٤٥١) محمد بن یحییٰ بن حبان ابن محیریز سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو کنانہ کا ایک شخص بنو مدلج انصار کے ایک شخص سے ملا اسے ابومحمد کہا جاتا تھا۔ اس نے اس سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو ابومحمد نے کہا : واجب ہے۔ کنانی کہتا ہے کہ میں عبادہ بن صامت (رض) سے ملا تو میں نے اس بات کا تذکرہ ان سے کیا تو انھوں نے فرمایا : ابو محمد نے غلطی کی ہے، کیونکہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جو بندہ ان پانچ نمازوں کو پڑھتا ہے ان میں سے کسی کو ضائع نہیں کرتا تو اللہ کا اس بندے کے لیے وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو بندہ ان پانچ نمازوں کو نہیں پڑھتا تو اللہ کا اس کے لیے کوئی وعدہ نہیں۔ اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اسے جنت میں داخل کر دے۔