(۴۴۹۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا بِالْمَدِینَۃِ ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلاَۃِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِیَ وَرَکَعُوا رَکْعَتَیْنِ ، حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِیبَ لَیَدْخُلُ الْمَسْجِدَ ، فَیَحْسِبُ أَنَّ الصَّلاَۃَ قَدْ صُلِّیَتْ مِنْ کَثْرَۃِ مَنْ یُصَلِّیَہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۰۳]
(٤٤٩٧) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : ہم مدینہ میں تھے۔ جب مؤذن مغرب کی اذان کہتا تو لوگ مسجد کے ستون کی طرف جلدی کرتے اور دو رکعت نماز ادا کرتے یہاں تک کہ اگر اجنبی شخص مسجد میں داخل ہوتا تو وہ گمان کرتا کہ نماز ہوچکی ہے۔ ان دو رکعتوں کو کثیر لوگوں کے پڑھنے کی وجہ سے۔