hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 4529

.

سنن البيهقي

4529
Sunan Al Bayhaqi
(۴۵۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَتَی تُوتِرِینَ؟ قَالَتْ : بَیْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَۃِ۔وَمَا یُؤَذِّنُونَ حَتَّی یُصْبِحُوا۔(ق) قَوْلُہُ : وَمَا یُؤَذِّنُونَ حَتَّی یُصْبِحُوا۔أَظُنُّہُ مِنْ قَوْلِ الأَسْوَدِ أَوْ أَبِی إِسْحَاقَ ، وَفِیہِ نَظَرٌ فَقَدْ رُوِّینَا أَنَّ الأَذَانَ الأَوَّلَ بِالْحِجَازِ کَانَ قَبْلَ الصُّبْحِ ، وَکَأَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَتْ تُصَلِّی قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، أَوْ أَرَادَ بِہِ الأَذَانَ الثَّانِی ، وَعَلَی ذَلِکَ تَدُلُّ رِوَایَۃُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تُوتِرُ فِیمَا بَیْنَ التَّثْوِیبِ وَالإِقَامَۃِ ، فَیَرْجِعُ مَذْہَبُہَا فِی ذَلِکَ إِلَی مَا رُوِّینَا عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(٤٥٢٩) اسود کہتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ آپ وتر کب پڑھتی ہیں ؟ فرمانے لگیں : اذان اور اقامت کے درمیان مؤذن اذان نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ وہ صبح کردیتے۔ راوی کہتے ہیں : میرا گمان ہے کہ یہ قول اسودکا ہے یا ابواسحاق کا اور اس میں نظر ہے۔
(ب) حجاز میں پہلی اذان طلوعِ فجر سے پہلے ہوتی تھی ، حضرت عائشہ (رض) طلوعِ فجر سے پہلے نماز پڑھتی تھیں یا اس نے دوسری اذان مراد لی ہے۔
(ج) ابو سعد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) اذان اور اقامت کے درمیان وتر پڑھا کرتیں تھیں۔
(نوٹ) لیکن راجع مذہب حضرت علی اور ابو مسعود کا ہے۔