(۴۵۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ بْنِ أَبِی الْمُخَارِقِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَقَدَ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ فَقَالَ لِخَادِمِہِ: انْظُرْ مَا صَنَعَ النَّاسُ؟ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ قَدْ ذَہَبَ بَصَرُہُ ، فَذَہَبَ الْخَادِمُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: قَدِ انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الصُّبْحِ۔فَقَامَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ فَأَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ۔ [ضعیف]
(٤٥٣٠) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر (رض) سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو کہا : دیکھو لوگوں نے کیا کیا ہے ؟ ان دنوں عبداللہ بن عباس نابینا ہوچکے تھے۔ خادم گیا اور لوٹا تو کہنے لگا : لوگ صبح کی نماز پڑھ کر واپس آ رہے ہیں۔ عبداللہ بن عباس (رض) کھڑے ہوئے اور وتر پڑھے۔