(۴۵۸۱) قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ غَیْرِ قَوِیٍّ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ : أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یُصَلِّی أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّہْرِ ، فَقِیلَ لَہُ : إِنَّکَ تُدِیمُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ۔فَقَالَ : إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَائِ ، وَأُحِبُّ أَنْ أُقَدِّمَ قَبْلَ أَنْ تُرَتَجَ ۔لَفْظُ حَدِیثِ سُفْیَانَ ، وَقَدْ وَرَدَ الْحَدِیثُ الثَّابِتُ بِإِجَازَۃِ خَمْسٍ لاَ یَتَشَہَّدُ وَلاَ یُسَلِّمُ فِیہِنَّ إِلاَّ فِی آخِرِہِنَّ فِی الْوِتْرِ ، وَبِإِجَازَۃِ تِسْعٍ لاَ یَقْعُدُ إِلاَّ فِی الثَّامِنَۃِ، وَلاَ یُسَلِّمُ إِلاَّ فِی التَّاسِعَۃِ ، وَذَلِکَ أَیْضًا فِی الْوِتْرِ مَذْکُورٌ۔ [ضعیف]
(٤٥٨١) ابو ایوب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر سے قبل چار رکعات پڑھا کرتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : کیا آپ ان پر ہمیشگی کرتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب سورج ڈھل جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال آسمان کے دروازے بند ہونے سے پہلے اوپر چلے جائیں۔
(ب) ثابت کی حدیث میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ رکعات کی اجازت دی ہے، نہ ان کے درمیان تشہد ہوگا اور نہ ہی سلام، صرف آخری رکعت میں ہے کہ یہ وتر کے متعلق ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نو رکعات کی اجازت دی ہے، صرف آخری رکعت میں بیٹھا جائے اور سلام صرف نویں رکعت میں ہوگا۔ یہ بھی وتر کے بارے میں ہے۔