(۴۶) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ وَقَالَ: ((أَلاَ نَزَعْتُمْ إِہَابَہَا فَدَبَغْتُمُوہُ وَانْتَفَعْتُمْ بِہِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَبِی بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِمَا عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔
(ج) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الْحُمَیْدِیِّ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ کَانَ سُفْیَانُ رُبَّمَا قَالَہُ عَنِ ابْنِ عَبِّاسٍ وَلَمْ یَذْکُرْ فِیہِ مَیْمُونَۃَ ، فَإِذَا وُقِّفَ عَلَیْہِ قَالَ ہُوَ عَنْ مَیْمُونَۃَ وَقِیلَ لَہُ فَإِنَّ مَعْمَرًا لاَ یَقُولُ فِیہِ فَدَبَغُوہُ وَیَقُولُ کَانَ الزُّہْرِیُّ یُنْکِرُ الدِّبَاغَ فَقَالَ سُفْیَانُ لَکِنِّی أَنَا أَحْفَظُ فِیہِ۔
وَفِی الْحَدِیثِ الآخَرِ حَدِیثِ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبِّاسٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۴۴]
(ت) قَالَ الشَّیْخُ:رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَصَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ وَغَیْرُہُمْ فَلَمْ یَذْکُرُوا فِیہِ فَدَبَغُوہُ وَقَدْ حَفِظَہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، وَالزِّیَادَۃُ مِنْ مِثْلِہِ مَقْبُولَۃٌ إِذَا کَانَتْ لَہَا شَوَاہِدُ۔
وَقَدْ تَابَعَہُ عَلَی ذَلِکَ عُقَیْلُ بْنُ خَالِدٍ وَسُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ وَالزُّبَیْدِیُّ فِیمَا رُوِیَ عَنْہُمْ۔ وَہُوَ فِی حَدِیثِہِ أَیْضًا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ کَمَا:
(٤٦) حضرت میمونہ (رض) سے منقول روایت میں یہ الفاظ ہیں : (أَلاَ نَزَعْتُمْ إِہَابَہَا فَدَبَغْتُمُوہُ وَانْتَفَعْتُمْ بِہِ ) تم نے اس کا چمڑا کیوں نہیں اتارا، پھر اس کو رنگ لیتے اور نفع حاصل کرتے۔
سفیان (رح) نے ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہوئے میمونہ (رض) کا ذکر نہیں کیا اور بعض جگہ وہ میمونہ کا ذکر کرتے ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ معمر ” فدبغوہ “ کا لفظ ذکر نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ امام زہری دباغت کا انکار کرتے تھے تو سفیان (رح) نے کہا : مجھے (یہ حدیث) ان سے زیادہ یاد ہے۔
امام بیہقی (رح) کہتے ہیں کہ زہری سے ایک کثیر جماعت نے روایت کیا ہے، لیکن انھوں نے دباغت کا ذکر نہیں کیا، بلکہ سفیان بن عیینہ نے (دباغت کا) ذکر کیا ہے اور جب شواہد موجود ہوں تو ثقہ کی زیادتی مقبول ہے۔