(۴۶۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ خَرَجَ لَیْلَۃً مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ یُصَلِّی فِی الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّی رِجَالٌ یُصَلُّونَ بِصَلاَتِہِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِکَ ، فَاجْتَمَعَ أَکْثَرُ مِنْہُمْ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ اللَّیْلَۃَ الثَّانِیَۃَ ، فَصَلَّی فَصَلَّوْا مَعَہُ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِکَ ، فَکَثُرَ أَہْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّیْلَۃِ الثَّالِثَۃِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَصَلَّوْا بِصَلاَتِہِ ، فَلَمَّا کَانَتِ اللَّیْلَۃُ الرَّابِعَۃُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَہْلِہِ ، فَلَمْ یَخْرُجْ إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْہُمْ یَقُولُونَ الصَّلاَۃُ ، فَلَمْ یَخْرُجْ إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ حَتَّی خَرَجَ لِصَلاَۃِ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَۃَ الْفَجْرِ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَتَشَہَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ لَمْ یَخْفَ عَلَیَّ شَأْنُکُمُ اللَّیْلَۃَ ، وَلَکِنِّی خَشِیتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَیْکُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْہَا))۔وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُرَغِّبُہُمْ فِی قِیَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَأْمُرَہُمْ بِعَزِیمَۃِ أَمْرٍ فِیہِ فَیَقُولُ : ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))۔فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَالأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ ، ثُمَّ کَانَ الأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ خِلاَفَۃَ أَبِی بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [صحیح۔ تقدم]
(٤٦٠٢) عروہ بن زبیر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رات نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں گئے تو بہت سارے لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر نماز پڑھی اور صبح کے وقت لوگوں نے آپس میں اس بارے میں باتیں کیں تو دوسری رات پھر اکثر جمع ہوگئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی دوسری رات آئے، نماز پڑھی تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑھی۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کے متعلق باتیں کیں۔ تیسری رات تو اژدحام ہوگیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی۔ چوتھی رات لوگ مسجد میں پورے نہیں آ رہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نہیں آئے لوگ آوازیں دینا شروع ہوئے اور کہہ رہے تھے : نماز ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں نکلے، پھر صبح کی نماز کے لیے آئے ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تمہاری رات کی حالت مجھ سے مخفی نہیں۔ لیکن میں نے ڈر محسوس کیا کہ کبھی تمہارے اوپر فرض نہ کردی جائیں اور تم عاجز آ جاؤ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامِ رمضان کی صرف ترغیب دیتے تھے۔ اس کا حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو معاملہ ایسے ہی رہا، پھر ابوبکر صدیق (رض) اور حضرت عمر فاروق (رض) کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ ایسے ہی رہا۔