(۴۶۰۳) قَالَ عُرْوَۃُ وَأَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ الْقَارِیُّ ، وَکَانَ مِنْ عُمَّالِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ ، وَکَانَ یَعْمَلُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَرْقَمِ عَلَی بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِینَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَرَجَ لَیْلَۃً فِی رَمَضَانَ فَخَرَجَ مَعَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَطَافَ فِی الْمَسْجِدِ وَأَہْلُ الْمَسْجِدِ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ ، یُصَلِّی الرَّجُلُ لِنَفْسِہِ ، وَیُصَلِّی الرَّجُلُ فَیُصَلِّی بِصَلاَتِہِ الرَّہْطُ۔قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ لأَظُنُّ لَوْ جَمَعْنَاہُمْ عَلَی قَارِئٍ وَاحِدٍ لَکَانَ أَمْثَلَ۔فَعَزَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی أَنْ یَجْمَعُہُمْ عَلَی قَارِئٍ وَاحِدٍ۔فَأَمَرَ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَقُومَ بِہِمْ فِی رَمَضَانَ ، فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلاَۃِ قَارِئٍ لَہُمْ ، وَمَعَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ الْقَارِیُّ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ہَذِہِ ، وَالَّتِی یَنَامُونَ عَنْہَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِی یَقُومُونَ۔یُرِیدُ آخِرَ اللَّیْلِ ، وَکَانَ النَّاسُ یَقُومُونَ فِی أَوَّلِہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ دُونَ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ ، وَإِنَّمَا أَخْرَجَ حَدِیثَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۱۰]
(٤٦٠٣) عبدالرحمن بن عبدالقاری حضرت عمر (رض) کے زمانے میں حکام میں سے تھے اور یہ عبداللہ بن ارقم کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے بیت المال پر کام کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر (رض) ایک رات نکلے، ان کے ساتھ عبدالرحمن بھی تھے۔ وہ مسجد میں گھومے اور مسجد میں لوگ مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی گروہ کے ساتھ مل کر نماز میں مصروف ہے۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : اگر ان کو ایک قاری پر جمع کردیا جائے تو یہ زیادہ افضل ہے اور حضرت عمر (رض) نے اس بات کا ارادہ کرلیا تو ابی بن کعب کو حکم دیا کہ وہ ان کو قیام کروایا کریں۔ پھر ایک دن حضرت عمر (رض) نکلے تو سارے لوگ ایک قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کے ساتھ عبدالرحمن بن عبدالقاری بھی موجود تھے۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : یہ اچھا طریقہ ہے۔ وہ لوگ جو سو جاتے ہیں وہ افضل ہیں ان قیام کرنے والوں سے (رات کا آخری مراد لے رہے تھے) اور لوگ رات کے ابتدائی حصہ میں قیام کرتے تھے۔