(۴۶۰۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَیْلَۃً فِی رَمَضَانَ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ یُصَلِّی الرَّجُلُ لِنَفْسِہِ وَیُصَلِّی الرَّجُلُ فَیُصَلِّی بِصَلاَتِہِ الرَّہْطُ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ إِنِّی لأَرَی لَوْ جَمَعْتُ ہَؤُلاَئِ عَلَی قَارِئٍ وَاحِدٍ لَکَانَ أَمْثَلَ۔ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَہُمْ عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَہُ لَیْلَۃً أُخْرَی ، وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلاَۃِ قَارِئِہِمْ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ہَذِہِ ، وَالَّتِی یَنَامُونَ عَنْہَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِی یَقُومُونَ۔یُرِیدُ آخِرَ اللَّیْلِ وَکَانَ النَّاسُ یَقُومُونَ أَوَّلَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ تقدم]
(٤٦٠٤) عبدالرحمن بن عبدالقاری کہتے ہیں : میں رمضان کی رات حضرت عمر (رض) کے ساتھ مسجد میں آیا اور لوگ بکھرے ہوئے تھے۔ کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا اور کہیں جماعت تھی۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : میرا خیال ہے کہ میں ان کو ایک قاری پر جمع کر دوں تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔ پھر انھوں نے اپنے عزم کے مطابق ان کو ابی بن کعب پر جمع کردیا۔ پھر میں ان کے ساتھ ایک دوسری رات نکلا تو سارے لوگ ایک قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : یہ اچھا طریقہ ہے اور وہ لوگ جو سوئے ہوئے ہیں وہ افضل ہیں ان سے جو قیام کر رہے ہیں۔ وہ آخر اللیل کا ارادہ کر رہے تھے اور لوگ رات کے ابتدائی حصہ میں قیام کرتے تھے۔