(۴۶۲۲) وَأَخْبَرَنَا ابْنُ فَنْجُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّنِّیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الْبُزُورِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ سُحَیْمٍ الْکَاہِلِیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُرَوِّحُنَا فِی رَمَضَانَ ، یَعْنِی بَیْنَ التَّرْوِیحَتَیْنِ قَدْرَ مَا یَذْہَبُ الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَی سَلْعٍ۔کَذَا قَالَ۔
(ق) وَلَعَلَّہُ أَرَادَ مَنْ یُصَلِّی بِہِمُ التَّرَاوِیحَ بِأَمْرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(٤٦٢٢) زید بن وھب فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) رمضان میں ہمیں راحت کے لیے وقت دیتے، یعنی دو رکعت تراویح کے درمیان اتنا وقفہ دیتے کہ کوئی مسجد سے نکل کر سَلْع پہاڑی تک چلا جائے۔ شاید ان کی مراد وہ ہو جو عمر بن خطاب (رض) کے حکم سے تراویح پڑھتا ہے۔