(۴۶۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِطَوْسٍ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا الْمُعَافَی بْنُ عِمْرَانَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ زِیَادٍ الْمَوْصِلِیُّ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُصَلِّی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فِی اللَّیْلِ ، ثُمَّ یَتَرَوَّحُ ، فَأَطَالَ حَتَّی رَحِمْتُہُ فَقُلْتُ : بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ غَفَرَ اللَّہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ۔قَالَ : ((أَفَلاَ أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا؟))۔
تَفَرَّدَ بِہِ الْمُغِیرَۃُ بْنُ زِیَادٍ۔(ج) وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔(ق) وَقَوْلُہُ : ثُمَّ یَتَرَوَّحُ۔إِنْ ثَبَتَ فَہُوَ أَصْلٌ فِی تَرَوُّحِ الإِمَامِ فِی صَلاَۃِ التَّرَاوِیحِ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(٤٦٢٣) عطا حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو چار رکعات پڑھا کرتے تھے، پھر آرام کرتے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکعت اتنی لمبی کردیتے کہ مجھے آپ پر رحم آجاتا، میں کہتی : میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان ہوں، اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلے اور بعد والے تمام گناہ معاف کردیے ہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں۔