(۴۶۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجُوَیْہِ الدِّینَوَرِیُّ بِالدَّامِغَانِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرَوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ قَالَ : دَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِثَلاَثَۃِ قُرَّائٍ فَاسْتَقْرَأَہُمْ ، فَأَمَرَ أَسْرَعَہُمْ قِرَائَ ۃً أَنْ یَقْرَأَ لِلنَّاسِ ثَلاَثِینَ آیَۃً ، وَأَمَرَ أَوْسَطَہُمْ أَنْ یَقْرَأَ خَمْسًا وَعِشْرِینَ آیَۃً، وَأَمَرَ أَبْطَأَہُمْ أَنْ یَقْرَأَ عِشْرِینَ آیَۃً۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَاصِمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ النمیری فی اخبار المدینہ ۱۱۸۴]
(٤٦٢٤) ابو عثمان نہدی فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے تین قراء کو بلوایا اور ان کی قرأت سنی، ان میں سے جلدی قرأت کرنے والے سے فرمایا کہ وہ تیس آیات کی تلاوت سے لوگوں کو قیام کروائے اور درمیانی قرات کرنے والے سے کہا کہ وہ پچیس آیات کی تلاوت کرے اور سب سے آہستہ پڑھنے والے سے کہا کہ وہ بیس آیات کی تلاوت کرے۔