(۴۶۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنِ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ : الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ أَنَّ حُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ طَرَقَہُ وَفَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ لَیْلاً فَقَالَ : أَلاَ تُصَلِّیَانِ؟ ۔فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِیَدِ اللَّہِ ، فَإِذَا شَائَ أَنْ یَبْعَثَنَا بَعَثَنَا۔فَانْصَرَفَ حِینَ قُلْتُ ذَلِکَ وَلَمْ یَرْجِعْ إِلَیَّ شَیْئًا ثُمَّ سَمِعْتُہُ وَہُوَ مُوَلٍّ یَضْرِبُ فَخِذَہُ وَیَقُولُ : {وَکَانَ الإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلاً} [الکہف:۵۴] ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح]
(٤٦٤١) حسین بن علی فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالب نے ان کو بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم دونوں رات کو نماز نہیں پڑھتے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے تو ہمیں بیدار کردیتا ہے، جب میں نے جواب دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے گئے، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ جواب نہیں دیا اور میں نے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے اور اپنے ہاتھ اپنی ران پر مار رہے تھے { وَکَانَ الإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلاً } [الکہف : ٥٤] ۔” انسان بہت زیادہ جھگڑالو ہے۔ “