(۴۶۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ ﷺ إِذَا رَأَی رُؤْیَا قَصَّہَا عَلَی النَّبِیِّ ﷺ قَالَ فَتَمَنَّیْتُ أَنْ أَرَی رُؤْیَا فَأَقُصَّہَا عَلَی النَّبِیِّ ﷺ قَالَ وَکُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا أَعْزَبَ ، فَکَنْتُ أَنَامُ فِی الْمَسْجِدِ قَالَ فَرَأَیْتُ کَأَنَّ مَلَکَیْنِ أَتَیَانِی ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِلآخَرِ : انْطَلِقْ بِہِ إِلَی النَّارِ۔قَالَ : فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ النَّارِ۔قَالَ : فَلَقِیَنَا مَلَکٌ آخَرُ فَقَالَ لِی : لَمْ تُرَعْ۔قَالَ : فَانْطَلَقُوا بِی حَتَّی وَقَفْنَا عَلَی النَّارِ ، فَإِذَا ہِی مَطْوِیَّۃٌ ، وَإِذَا لَہَا قَرْنَانِ کَقَرْنَیِ الْبِئْرِ قَالَ وَرَأَیْتُ فِیہَا رِجَالاً أَعْرِفُہُمْ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتَ عَلَی حَفْصَۃَ فَقَصَصْتُہَا عَلَیْہَا ، فَقَصَّتْہَا حَفْصَۃُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّہِ لَوْ کَانَ یَقُومُ مِنَ اللَّیْلِ))۔قَالَ سَالِمٌ : فَکَانَ لاَ یَنَامُ مِنَ اللَّیْلِ إِلاَّ قَلِیلاً۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاہَوَیْہِ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۴۷۹]
(٤٦٤٢) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں جب کوئی آدمی خواب دیکھتا تو اپنا خواب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیان کرتا۔ فرماتے ہیں : میری بھی تمنا تھی کہ میں خواب دیکھوں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیان کروں اور میں کنوارہ نوجوان تھا اور مسجد میں سوتا تھا۔ میں نے دیکھا : دو فرشتے میرے پاس آئے، ایک نے کہا : اس کو آگ کی طرف لے چلو ، میں نے کہنا شروع کردیا کہ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جہنم سے ۔ پھر ہمیں دوسرا فرشتہ ملا اس نے مجھے کہا : گھبراؤ نہیں وہ مجھے جہنم کی طرف لے کر چلے اور ہم جہنم کے کنارے پر کھڑے تھے۔ اس کے دو منڈیر تھیں جیسے کنوئیں کی ہوتی ہیں، میں نے ان میں مرد دیکھے جن کو میں جانتا تھا۔ صبح کے وقت میں نے اپنا خواب حضرت حفصہ (رض) کو سنایا تو حفصہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عبداللہ اچھا آدمی ہے۔ اگر وہ رات کا قیام کرے۔ سالم فرماتے ہیں کہ اس کے بعد عبداللہ بن عمر (رض) رات کو بہت کم سوتے تھے۔