(۴۶۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ صَالِحٍ الصَّفَّارُ فِی الْمُحَرَّمِ سَنَۃَ إِحْدَی وَأَرْبَعِینَ وَثَلاَثِمِائَۃٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ الأَحْوَلُ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ إِذَا تَہَجَّدَ مِنَ اللَّیْلِ قَالَ : ((اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَیِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِیہِنَّ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُکَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُکَ الْحَقُّ ، وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالنَّبِیُّونَ حَقٌّ ، اللَّہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ ، وَبِکَ آمَنْتُ ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ ، وَإِلَیْکَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَہِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ تقدم]
(٤٦٦٦) طاؤس کہتے ہیں کہ اس نے ابن عباس (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو تہجد پڑھتے تو فرماتے : اے اللہ ! تیرے لیے تعریف ہے تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے کا انتظام فرماتا ہے اور تو، تیرا وعدہ، تیری بات اور تیری ملاقات حق ہے جنت، جہنم، انبیاء بھی حق ہیں۔ اے اللہ ! میں تیرا مطیع ہوں اور تجھ پر ایمان رکھتا ہوں اور تیرے اوپر میرا بھروسہ ہے اور تیری طرف میں عاجزی کرتا ہوں۔ میرے پہلے اور بعد والے تمام گناہ معاف کر دے اور جو گناہ میں نے پوشیدہ یا ظاہراً کیے ہوں تمام معاف کر دے تو ہی میرا الٰہ ہے تیرے علاوہ میرا کوئی الٰہ نہیں۔