(۴۶۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِیبٍ وَیَحْیَی بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِی مَیْمُونَۃَ، فَقَامَ النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ، فَصَلَّی ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً مِنْہَا رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، حَزَرْتُ قِیَامَہُ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ بِقَدْرِ { یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ } لَمْ یَقُلْ نُوحٌ مِنْہَا رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۳۶۵]
(٤٦٨٢) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں نے اپنی خالہ میمونہ (رض) کے پاس رات گزاری، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرہ رکعات پڑھی، ان میں دو رکعتیں فجر کی بھی تھیں، میں نے ہر رکعت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کا اندازہ { یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ } کے بقدر لگایا اور ” نوح “ نہیں کہا۔ اس میں دو رکعات فجر کی بھی تھیں۔